خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 241

خطبات ناصر جلد دہم ۲۴۱ خطبہ نکاح ۱۵؍دسمبر ۱۹۶۵ء سمجھتا ہے کہ کفر کی طرف عود گویا جہنم کی آگ میں پڑ جانا ہے۔آپ دیکھ لیں دنیا کا کوئی شخص پسند نہیں کرتا کہ وہ آگ میں پڑے یا تنور میں داخل ہو جائے۔جب کسی کا بچہ آگ کے قریب جاتا ہے تو والد کیا والدہ کیا سب اس کو آگ سے بچانے کے لئے لپکتے ہیں۔پس کفر کی کسی بات کی طرف کبھی نہ لوٹنا چاہیے۔قرآن وحدیث میں آتا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور دوزخ کے سات۔مومن کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ دوزخ کے سارے دروازوں کو اپنے اوپر بند کرے اگر وہ چھ دروازے تو بند کر لیتا ہے لیکن ایک کھلا رکھتا ہے تو پھر بھی وہ خطرہ میں ہی ہوتا ہے۔اگر وہ ایک دروازے سے جہنم میں داخل ہو جائے تو چھ کے بند کرنے کا کیا فائدہ؟ پس دوزخ کے ہر دروازے کو بند کرنا چاہیے اور جنت کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ سب کو بھی اس کی توفیق بخشے۔آمین اعلان نکاح کے بعد فرمایا:۔آئیے اب ہم سب مل کر دعا کر لیں کہ خدا تعالیٰ اس رشتہ کو مبارک کرے اور اس رشتہ سے ایسی نسل چلے جو حقیقتا اسلام کی اور احمدیت کی خادم ہو۔اس کے بعد حضور انور نے دعا کرائی جس میں سب حاضرین بھی شامل ہوئے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ ء صفحه ۳)