خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 240

خطبات ناصر جلد دہم ۲۴۰ خطبہ نکاح ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۵ء سوَاهُمَا یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرما یا کہ جس شخص میں تین باتیں پائی جاتی ہیں وہ ایمان کی حلاوت کو پالے گا پہلی بات جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کامل محبت ہوتی ہے اور اس کے سارے اعمال اس نقطه مرکزی ( محبت خالق و محبت رسول) کے گرد گھومتے ہیں۔یا یوں کہیے کہ خدا تعالیٰ اور رسول کی جو محبت اس کے دل میں ہوتی ہے وہ دوسری چیزوں کوخس و خاشاک کی طرح بہالے جاتی ہے۔پس خدا تعالی رشتے قائم کرنے سے نہیں روکتا وہ محبت کرنے سے بھی نہیں روکتا بلکہ وہ تو حکم دیتا ہے کہ دوسروں سے پیار کرو اور رشتے قائم کرو مگر یہ محبت اور رشتے خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اور اس کے احکام کے تابع ہونے چاہئیں۔جو محبت خدا کے لئے قائم کی جائے گی اس میں کوئی روحانی فساد نہیں ہوگا۔اور نہ ہی کوئی دنیوی فتنہ پیدا ہو سکے گا۔دنیوی لوگوں میں فتنہ و فساد اس لئے پیدا ہوتا رہتا ہے کہ ان کی محبت اور تعلق خدا تعالیٰ کے حکم اور رضا کے مطابق نہیں ہوتا۔ابھی کچھ دن ہوئے میرے نام ایک دوست کا خط آیا کہ میرا بیٹا بیوی کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔وہ بیوی کا تو خیال رکھتا ہے لیکن میرے حقوق ادا نہیں کرتا۔یہ اسی لئے ہوا کہ خدا کے احکام کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔خاوند بے شک بیوی سے محبت رکھے اور بیوی خاوند سے محبت رکھے مگر یہ محبت خدا تعالیٰ کے لئے ہونی چاہیے۔اگر ایسا ہو گا تو یقینا بیٹے کو خیال رہے گا کہ اسے باپ کے حقوق کو بھی نبھانا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ہیں۔دوسری بات اس حدیث میں یہ بیان کی گئی ہے کہ ایک مومن یہ تو گوارا کر لیتا ہے کہ وہ آگ میں پھینک دیا جائے لیکن یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ وہ کفر کی طرف لوٹے اور پھر اسی میں پڑا رہے۔اس جملہ میں يَعُودُ إِلَى الْكُفْرِ نہیں بلکہ الی کی بجائے فئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مومن بھی انسان ہوتا ہے اور انسان غلطی کر سکتا ہے اور کرتا ہے لیکن مومن جب کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ اس میں پڑا رہنا ہر گز پسند نہیں کرتا بلکہ وہ فوراً دعا مانگتا ہے۔خدا تعالیٰ سے معافی چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے معاف کیا جائے۔آئندہ ایسا کبھی نہ کروں گا۔وہ