خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 222

خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۲ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود میں پہنچی۔ابتدا بھی عظیم کوئی شک نہیں لیکن جو عروج ہے اس کی عظمتوں کا تو اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔یعنی جو قربانی خدا تعالیٰ کی راہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی اس کی عظمت اور رفعت کو انسانی عقل نہیں پہنچی۔اسی لئے اگر ہم اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہر صدی نے اس عظمت کے، اس عروج کی عظمت کے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربانی کی عظمت کے نئے سے نئے پہلو نکالے۔جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلی صدی میں پہلی صدی کے انسان نے اس کے عروج کو کامل طور پر نہیں سمجھا تھا تبھی تو دوسری صدی میں نئے پہلو اجاگر ہوئے اور سامنے آئے اور دوسری صدی نے بھی اس عظمت کو پوری طرح نہیں سمجھا تھا اسی لئے تیسری صدی میں نئے پہلو ہمارے سامنے آئے اور جب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے نئے پہلو بنی عظمتیں، نئی رفعتیں نئی گہرائیاں ،نئی وسعتیں ہمارے سامنے اس عظیم قربانی کی آتی رہتی ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی بنیاد تھی اِفْعَلُ مَا تُؤْمَرُ (الصفت : ۱۰۳) ایک حکم خدا نے دیا ہے اسے بجالاؤ وہ حکم تھا بیٹے کو قربان کر دینے کا۔انسان اپنے نفس کی قربانی دیتا ہے یعنی جان حاضر کر دیتا ہے وہ بھی بڑی قربانی ہے۔باپ خدا کے لئے اور اس کے حکم کو پورا کرنے کے لئے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری رکھنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے یہ بھی بڑی قربانی ہے مگر ایک حکم کو پورا کرنے سے یہ شروع ہوئی یعنی بنیاد اس قربانی کی خدا تعالیٰ کے ایک حکم کو بجالانے پر رکھی گئی۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قربانیاں اپنے رب کریم کے حضور پیش کیں ان کی بنیاد ایک حکم کو پورا کرنے کے لئے نہیں وَ اسْتَقِم گما أمرت (الشورى : ۱۶) جو وحی بھی تم پر نازل ہوئی ہے، اسے مضبوطی سے پکڑو اور استقلال سے اس پر قائم رہو۔ظاہری یہ بڑا فرق ہے دو قربانیوں کی بنیاد پر۔لیکن بہر حال وہاں سے شروع ہوئی اور اپنے عروج کو پہنچی اور عروج کو پہنچنے کے بعد جس طرح ایک بلند مینار پر کوئی بہت بڑا چراغ یا بلب بجلی کا روشن کیا جائے تو جتنی طاقت ہوگی اس بلب میں اور جتنی بلندی ہوگی اس مینار میں اس کے مطابق وہ اپنی شعاعیں چاروں طرف پھینکے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قربانی