خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 212
خطبات ناصر جلد دہم ۲۱۲ خطبہ عیدالاضحیہ یکم نومبر ۱۹۷۹ء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اسوہ اور اس اسوہ کی جو عظمت اور رفعت اور اس عظمت اور رفعت کا جو حسن ہمارے سامنے پیش کیا وہ بھی کچھ ایسا ہے کہ انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے بعد آپ کا عاشق ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس لئے دین اسلام نے اعمالِ انسانی کی بنیاد دو چیزوں پر رکھی ایک جہت سے عقل پر اور دوسری طرف عشق پر۔بعض عبادات ایسی ہیں جن میں زیادہ زور عقلی پہلو کی طرف ہے۔بعض عبادات ایسی ہیں جن میں زیادہ زور جذباتی پہلو پر ہے محبت اور عشق پر۔۔حج کی عبادت جذبات سے، پیار سے ، عشق سے تعلق رکھتی ہے اور اصل حج تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے عشق میں مست ہو کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دیوانہ ہو کر مکہ اور مدینہ کی طرف دوڑے۔سارے ارکان حج محبت کے پہلو کو نمایاں کرنے والے ہیں۔اور جو یاد اس سے ابستہ ہے اس کا تعلق بھی محبت اور عشق سے ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عشق اپنے پیدا کرنے والے رب سے اور آپ کی محبت اس آنے والے کے لئے (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہ جن کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی تفصیل سے دی تھی اور آپ سے آنے والی امت کے لئے دعائیں کروائی تھیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے اپنی نسل کو نسلاً بعد نسل تربیت دے کر تیار کیا تھا۔آپ کے دشمنوں نے کہا اپنے بتوں کی مدد کرو اور ابراہیم علیہ السلام کو بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دو۔اس قدر پیار تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے رب سے کہ اس کے جواب میں جو پیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو اوہ یہ تھا کہ تم بتوں کے پجاری میرے پیارے کو آگ میں جلا نہیں سکتے۔ينارُ كُونِي بَرْداً وَ سَلمًا ( الانبياء :٧٠) اس خالق گل اور مالک گل اور ہر چیز پر قادر خدا نے آگ کو ، جس کی عام حالات میں یہ خاصیت ہے کہ وہ جلاتی ہے کہا ابراہیم کے لئے تو ٹھنڈی ہو جا ، اتنا ہی نہیں بلکہ سلامتی کے سامان پیدا کر۔نہ جلا ایک منفی اظہار ہے محبت کا یعنی تکلیف سے محفوظ کر لیا۔مگر پیار کرنے والا اور پھر جب پیار کرنے والا خدا ہو وہ یہاں تو نہیں ٹھہرتا۔تکلیف سے محفوظ بھی کر لیا اور اسی آگ میں سے سلامتی کے سامان پیدا کر دیئے۔