خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 168
خطبات ناصر جلد دہم ۱۶۸ خطبہ عید الاضحیہ ۱۶ /جنوری ۱۹۷۳ء دیا گیا ہے وہ ذبح اولاد یا ذبح نفس کا نہیں بلکہ نفس اور اولاد کی عظیم قربانی کا ہے۔موت کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔انسان بیماری سے مرجاتا ہے یا بعض قاتل قتل کر دیتے ہیں وغیرہ کئی اسباب ہیں جن سے زندگی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔مگر جو موت شہادت کے رنگ میں آتی ہے یا جو عظیم قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مانگی گئی تھی اس کے مقابلہ میں دوسری اموات کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ہر دوسری موت ایک وقتی چیز ہے۔مگر یہ عظیم قربانی انسانی جذبات میں ایک تلاطم اور دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنے والی چیز ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ذریعہ کے طور ذبح عظیم کو پیش کیا ہے۔یہ ذبح عظیم بھی ہے اور نجات کا ذریعہ بھی ہے۔یہ موت بھی ہے اور زندگی کا سرچشمہ بھی ہے اس لئے تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ہم نے یہ ریت بعد میں آنے والی قوموں میں جاری کی جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اپنے عروج کو پہنچی۔اس ذبح عظیم کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّة اسلم یعنی جب خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سمجھایا کہ ذبیح اولا د مراد نہیں بلکہ ذبح عظیم مراد ہے اور اسلم کا مطالبہ کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا أسلمتُ لِرَب العلمین یعنی ان کی زبان، ان کے دلی جذبات اور ان کی روح کی پکار یہ تھی کہ میں تو پہلے ہی سے تمام جہانوں کے رب کی کامل فرمانبرداری اختیار کر چکا ہوں۔گویا جس خدا نے ان جہانوں کو اپنے خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس رب العلمین کے آگے میں اپنے اسلام کا اظہار کرتا ہوں۔پس چونکہ حقیقت ان پر واضح کر دی گئی تھی کہ یہ ایک سلسلہ ہے اور یہ ایک تحریک ہے جو جاری کی گئی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ساری دنیا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی روشنی کو پھیلا دیا جائے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے منشا کے عین مطابق اپنی اولاد کو اور آپ کی بزرگ اولاد نے آگے اپنی اولا د کو یہ نصیحت کی کہ دیکھو ایک دین اور شریعت تمہارے لئے چنی گئی ہے۔(حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی اولاد کے زمانہ کے لحاظ سے بھی اور آپ کے خاندان میں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی چونکہ پیدائش ہوئی تھی اس نقطہ نگاہ