خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 97 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 97

خطبات ناصر جلد دہم ۹۷ خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء پر چالیس ہزار آدمیوں نے حملہ کیا تھا اور میں تھا اس وقت خدام الاحمدیہ کا صدر۔میں کچھ رضا کار لے کر حفاظت پر مامور تھا۔میں نے ان کو ہدایت کی کہ کسی سے لڑنا نہیں۔ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ کہیں لیکن ان کو اتنا قریب بھی نہیں آنے دینا کہ اگر پتھر پھینکیں تو ہمارے پنڈال میں آکر گریں۔اس سے ابتری پھیلے گی۔چنانچہ پرے کھڑے ہو گئے اور ایک وقت میں حضرت مصلح موعود ( نور اللہ مرقدہ) کو خیال آیا کہ بہت زیادہ نوجوان باہر نہ چلے جائیں تو آپ نے کہا کہ سو سے زیادہ خدام باہر کھڑے نہ ہوں۔لاؤڈ سپیکر کام نہیں کر رہا تھا جس کی وجہ سے وہاں خرابی پیدا ہوگئی تھی تو خیر خدام دوڑے ہوئے میرے پاس آئے کہ حضرت صاحب کا یہ حکم ہے میں نے کہا ٹھیک ہے ابھی دیکھتے ہیں۔پہلے میں نے بھی نہیں دیکھا تھا۔بس ساتھی لئے تھے اور کام شروع کر دیا تھا۔جب گنتی کی تو ہم سب ستّر تھے۔سو بھی نہیں تھے اور ۴۰ ہزار کا مجمع ہمارے سامنے تھا۔خوف اگر کسی کے دل میں تھا تو ان کے دل میں تھا ہمارے دل میں نہیں تھا۔خدا تعالیٰ تو اپنے نشان دکھاتا ہے۔چھوٹے چھوٹے نشان بھی اور بڑے بڑے بھی۔خدا تعالیٰ کا ایک نشان میں بتا دیتا ہوں۔میں نے دور سے دیکھا۔ہم سے غفلت یہ ہوئی کہ عورتیں جلسہ میں شامل ہوئیں تھیں اور قنات تھی Open space میں۔ڈبل قنات لگائی ہوئی تھی ہماری جماعت نے۔ایک تو عورتوں کے جلسہ گاہ کے ارد گرد تھی اور چالیس، پچاس قدم وہاں سے ہٹ کر دوسری قنات لگائی ہوئی تھی۔اچانک میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا وہاں ہمارا کوئی رضا کا رنہیں اور ایک پہلوان تین ، چارمن کا بڑا مضبوط ، دور سے دیکھا کہ وہ تیر کی طرح سیدھا عورتوں پر حملہ کرنے کے لئے دوڑا چلا جارہا ہے۔اس وقت وہاں کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ہم نے کہا دیکھیں یہاں ہوتا کیا ہے؟ خدام تو بکھرے ہوئے تھے۔اس لئے ہم نے کہا دیکھتے ہیں۔بڑی استغفار کی کہ غفلت ہوگئی ہے۔وہاں وہ قنات کے پاس گیا اور جھکا اور قنات کے بانس کو اکھاڑا اور ہمیں دور سے یہ نظر آیا کہ کسی نے اندر سے سوئی ماری ہے اس کے سر پر اور وہ واپس بھا گا۔میں حیران کہ وہاں رضا کار کوئی ہے نہیں اور وہاں کوئی عورت آگئی سوٹی مارنے کے لئے۔آخر بات کیا ہوئی ہے؟ بہت استغفار کیا کہ وہاں رضا کارکھڑا کرنا چاہیے تھا جب جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس نے