خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page x of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page x

VIII وو ۱۰۔اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے آخری خطبہ نکاح میں جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔یہ وقت ہے ایک عظیم مہم کا۔اتنی بڑی لڑائی انسانی زندگی میں تلوار سے نہیں دلائل کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ نوع انسانی کی تاریخ میں کبھی نہیں لڑی گئی جتنی آج لڑی جارہی ہے کیونکہ محد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بشارتیں ملی تھیں، ان کے عروج کا زمانہ آ گیا۔اس وقت سب کچھ بھول کے ہمیں بس ہنستے مسکراتے خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نتیجہ میں خوشیاں ہمارے چہروں سے یوں بہہ کے آ رہی ہوں جس طرح پہاڑ سے برفانی پانی کے نالے بہہ کے آرہے ہوتے ہیں اور آگے بڑھتے چلے جاؤ اور اتنا جہیز کم کیوں دیا۔میرے پاس آتے ہیں، میں آپ کا امام اور خلیفہ بھی ہوں نا تو بڑی کوفت ہوتی ہے، جہیز کے اوپر اختلاف ہو گیا۔پھر خلع لینے کے لئے۔پھر یہ کہ اس نے ہمیں پیسے زیادہ نہیں دیئے۔رشتہ داروں کو جوڑے کوئی نہیں دیئے۔یہ نہیں دیا وہ نہیں دیا۔تمہیں اس وقت سوائے خدا تعالیٰ کے پیار کے اور کچھ نہیں چاہیے۔اس کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اس دنیا میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔اخروی زندگی میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔“ (خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۸۴۹٬۸۴۸) اس جلد کے ساتھ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے خطبات جمعہ، عیدین اور نکاح کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو گیا ہے۔خطبات ناصر کی گیارھویں اور بارھویں جلد انشاء اللہ آپ کے جلسہ سالانہ کے خطابات پر مشتمل ہوگی۔والسلام سید عبدالحی ۱۷/ مارچ ۲۰۰۹ء ناظر اشاعت