خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 90

خطبات مسرور جلد نهم 90 90 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء بن گیا ہے اور بن رہا ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن جو آپ کی وفات کے بعد قائم کی گئی تھی ، خلیفتہ المسیح الثالث نے قائم فرمائی تھی۔وہ آپ کا سب مواد جو ہے کتب کی صورت میں شائع کر رہی ہے اور آج تک اس پر کام ہو رہا ہے۔اب تک خطبات کے علاوہ اکیس جلدیں آچکی ہیں جو انوار العلوم کے نام سے مشہور ہیں۔اور یہ ہر جلد جو ہے کم از کم چھ سو، سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ اپنے کام میں تیزی پیدا کریں۔ان کو اشاعت کے اس کام کو جو وہ اردو میں اکٹھا جمع کر رہے ہیں ، جلد از جلد ختم کرنا چاہئے، پھر اس کا ترجمہ بھی مختلف زبانوں میں شائع کرنا ہے۔حضرت مصلح موعود نے ایک جگہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام زبانوں کو چند زبانوں میں جمع کر کے ہمارے لئے کام آسان کر دیا ہے۔بے شمار زبانیں ہیں لیکن چند مشہور زبانوں نے تقریباًد نیا پر قبضہ کر لیا ہے۔آپ کی مراد تھی کہ اردو عربی کے علاوہ انگلش، جرمن اور فریج زبانیں جو ہیں وہ مختلف علاقوں میں تقریباً دنیا میں اکثر بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔تو اگر ان میں ترجمہ ہو جائے تو نوے فیصد آبادی تک ہمارا پیغام پہنچ سکتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی بعض کتب کا ترجمہ ہو چکا ہے، لیکن ابھی بہت سی کتب ایسی ہیں جن کا دنیا کی علمی، روحانی پیاس بجھانے کے لئے دنیا تک پہنچنا ضروری ہے۔ابھی تک تو یہ ترجمہ جو ہے وہ دوسرے ادارے کر رہے ہیں، فضل عمر فاؤنڈیشن نہیں کر رہی۔لیکن اصل کام تو یہ فضل عمر فاؤنڈیشن کا ہے۔اگر پہلے نہیں بھی تھا تو میں اب ان کو اس طرف توجہ کرواتا ہوں۔کیونکہ جماعت کے دوسرے ادارے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی طرف پہلے توجہ کریں گے اور کر رہے ہیں۔ساتھ ساتھ جس حد تک ممکن ہوتا ہے حضرت مصلح موعود کی کتب بھی ترجمہ ہو رہی ہی ں اور جماعتی لٹریچر بھی ترجمہ ہو رہا ہے۔بہر حال فضل عمر فاؤنڈیشن کو بھی اپنے کام میں وسعت پیدا کرنی چاہئے۔حضرت مصلح موعود کی ان کتابوں کے ترجمے نہ ہونے کی وجہ سے، بعض لوگوں نے سرقہ بھی کر لیا۔آپ کی کتب لے کے نقل کر لیں۔اپنے نام سے ترجمہ کر کے شائع کر دیں۔چنانچہ ابھی مجھے عربی ڈیسک کے ہمارے ایک مربی صاحب نے بتایا کہ منہاج الطالبین جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک ایسی کتاب ہے جو اخلاقیات اور تربیت پر ایک معرکۃ الآراء کتاب ہے ، اس سے مواد لے کر ایک صاحب نے اس کو عربی میں اپنی کاوش کے نام سے شائع کر دیا جن کو اردو بھی آتی تھی۔جبکہ اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”میں نے اس مضمون پر غور کیا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا جدید مضمون میری سمجھ میں آیا ہے جس نے اخلاق کے مسئلے کی کایا پلٹ دی ہے“۔(منہاج الطالبین انوار العلوم جلد 9 صفحہ 179 مطبوعہ ربوہ) پس آپ کے کام کو دیکھ کر حضرت مصلح موعودؓ کی پیشگوئی کی شوکت اور روشن تر ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے اور جیسا کہ میں نے کہا اصل میں تو یہ آنحضرت صلی علی یکم کی پیشگوئی ہے جس سے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی ایم کے اعلیٰ اور دائمی مرتبے کی شان ظاہر ہوتی ہے۔لیکن ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ اس پیشگوئی کے الله