خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 87

87 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مرزائیت قریباً دنیا کے ہر خطے تک پہنچ گئی اور حالات یہ بتلاتے ہیں کہ آئندہ مردم شماری میں مرزائیوں کی تعداد 1931ء کی نسبت دو گنی سے بھی زیادہ ہو گی۔بحالیکہ اس عہد میں مخالفین کی جانب سے مرزائیت کے استیصال کے لئے جس قدر منظم کوششیں ہوئی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔الغرض آپ کی ذریت میں سے ایک شخص پیشگوئی کے مطابق جماعت کے لئے قائم کیا گیا اور اس کے ذریعہ جماعت کو حیرت انگیز ترقی ہوئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی من و عن پوری ہوئی“ ( یہ انہوں نے بیان دیا)۔(اظہار الحق صفحہ 16،17 مطبوعہ نذیر پر نٹنگ پریس امر تسر باہتمام سید مسلم حسن صاحب زیدی۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 286 287 مطبوعہ ربوہ ) پھر ”ہندوستان کے غیر مسلم سکھ صحافی ارجن سنگھ ایڈیٹر ”ر نگین “امر تسر نے تسلیم کیا کہ مرزا صاحب نے 1901ء میں جبکہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجودہ خلیفہ ابھی بچہ ہی تھے یہ پیشگوئی کی تھی۔(اس نے شعر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لکھے ہیں) کہ جو بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا ڈور اس مہ اند ھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی فَسُبحَنَ الَّذِي أُخْرَى الْأَعَادِي ( یہ شعر لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ” یہ پیشگوئی بیشک حیرت پیدا کرنے والی ہے۔1901ء میں نہ میرزا بشیر الدین محمود کوئی بڑے عالم و فاضل تھے اور نہ آپ کی سیاسی قابلیت کے جو ہر کھلے تھے۔اُس وقت یہ کہنا کہ تیرا ایک بیٹا ایسا اور ایسا ہو گا، ضرور کسی روحانی قوت کی دلیل ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ میرزا صاحب نے ایک دعوی کر کے گدی کی بنیاد رکھ دی تھی اس لئے آپ کو یہ گمان ہو سکتا تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کا سہر امیرے لڑکے کے سر پر رہے گا، لیکن یہ خیال باطل ہے۔اس لئے کہ میر زا صاحب نے خلافت کی یہ شرط نہیں رکھی کہ وہ ضرور مرزا صاحب کے خاندان سے اور آپ کی اولاد سے ہی ہو۔چنانچہ خلیفہ اول ایک ایسے صاحب ہوئے جن کا میر زا صاحب کے خاندان سے کوئی واسطہ نہ تھا۔پھر بہت ممکن تھا کہ مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول کے بعد بھی کوئی اور صاحب خلیفہ ہو جاتے“۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ ” چنانچہ اس موقعہ پر بھی مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور خلافت کے لئے امیدوار تھے لیکن اکثریت نے میرزا بشیر الدین صاحب کا ساتھ دیا اور اس طرح آپ خلیفہ مقرر ہو گئے“۔لکھتے ہیں ”اب سوال یہ ہے کہ اگر بڑے میر زا صاحب کے اندر کوئی روحانی قوت کام نہ کر رہی تھی تو پھر آخر آپ یہ کس طرح جان گئے کہ میرا ایک بیٹا ایسا ہو گا۔جس وقت مرزا صاحب نے مندرجہ بالا اعلان کیا ہے ، اُس وقت آپ