خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 86
خطبات مسرور جلد نهم 98 86 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بھی اپنے اس بیٹے کو جس کا نام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد تھا، مصلح موعود ہی سمجھا۔چنانچہ حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہوا ہے ایک ہی دفعہ نہیں بلکہ بار بار سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لڑکا جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے وہ میاں محمود ہی ہیں۔اور ہم نے آپ سے یہ بھی سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ”میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ میں بعض اوقات ان کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہوں“۔(الحکم جوبلی نمبر 28 دسمبر 1939 ء جلد 42 شمارہ 1 3 تا 40 صفحہ 80 کالم نمبر 3) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آپ کو اس وقت تک اس پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہرایا جب تک خدا تعالیٰ نے آپ کو بتا نہیں دیا۔یہ ایک لمبی رؤیا ہے جس کے بارہ میں آپ نے فرمایا کہ اس میں کشف اور الہام کا بھی حصہ ہے ( جو آپ نے دیکھی تھی) اُس کے آخر میں آپ نے فرمایا کہ : ”میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچانا ہے۔“ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 161 مطبوعہ ربوہ) اور آپ نے یہ رویا دیکھ کے 1944ء میں بیان کیا۔اب میں بعض غیر از جماعت احباب جو ہیں اُن کی آپ کے بارے میں کچھ شہاد تیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ایک معزز غیر احمدی عالم مولوی سمیع اللہ خان صاحب فاروقی نے قیام پاکستان سے قبل اظہارِ حق“ کے عنوان سے ایک ٹریکٹ میں لکھا کہ آپ کو ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو۔ناقل ) اطلاع ملتی ہے کہ ”میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا۔اور اس کے ذریعے سے حق ترقی کرے گا۔اور بہت سے لوگ سچائی قبول کریں گے۔“ اس پیشگوئی کو پڑھو اور بار بار پڑھو ( وہ آگے لکھتے ہیں) کہ اس پیشگوئی کو پڑھو اور بار بار پڑھو اور پھر ایمان سے کہو کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی؟ جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اُس وقت موجودہ خلیفہ ابھی بچے ہی تھے اور مرزا صاحب کی جانب سے ( یعنی حضرت مسیح موعود کی طرف سے) انہیں خلیفہ مقرر کرانے کے لئے کسی قسم کی وصیت بھی نہ کی گئی تھی۔بلکہ خلافت کا انتخاب رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔چنانچہ اُس وقت اکثریت نے حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا جس پر مخالفین نے محولہ صدر پیشگوئی کا مذاق بھی اڑایا۔لیکن حکیم صاحب کی وفات کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ مقرر ہوئے۔اور یہ حقیقت ہے کہ آپ کے زمانہ میں احمدیت نے جس قدر ترقی کی وہ حیرت انگیز ہے“۔( یہ غیر از جماعت لکھ رہے ہیں)۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ ”خود مرزا صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود کے وقت میں احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔خلیفہ نور الدین صاحب کے وقت میں بھی خاص ترقی نہ ہوئی تھی لیکن موجودہ خلیفہ کے وقت میں