خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 540

خطبات مسرور جلد نهم 540 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2011ء پھر اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ”یقینا سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ پیارے نہیں ہیں جن کی پوشاکیں عمدہ ہوں اور وہ بڑے دولتمند اور خوش خور ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ پیارے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اور خالص خدا ہی کے لیے ہو جاتے ہیں۔پس تم اس امر کی طرف توجہ کرو، نہ پہلے امر کی طرف“۔( یعنی دنیا کی طرف نہ پڑو بلکہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔آپ کے اپنے وقت میں جو جماعت کی حالت تھی اس کا ذکر فرما رہے ہیں حالانکہ اُس وقت لوگوں میں بڑی پاک تبدیلیاں پید اہورہی تھیں۔لیکن آپ فرماتے ہیں کہ) اگر میں جماعت کی موجودہ حالت پر ہی نظر کروں تو مجھے بہت غم ہوتا ہے کہ ابھی بہت ہی کمزور حالت ہے اور بہت سے مراحل باقی ہیں جو اس نے طے کرنے ہیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر نظر کرتا ہوں جو اس نے مجھ سے کئے ہیں تو میرا غم امید سے بدل جاتا ہے۔منجملہ اس کے وعدوں کے ایک یہ بھی ہے جو فرمایا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ (آل عمران : 56 ) “ ( اور اُن لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے اُن لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالا دست کرنے والا ہوں۔اگر اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ فکر تھی اور آپ نے اپنے ماننے والوں کو توجہ دلائی تو اب ایک زمانہ گزرنے کے بعد تو ہمیں اور بھی زیادہ اس کی فکر ہونی چاہئے کہ جوں جوں ہم دور جارہے ہیں ہماری حالتیں کہیں بگڑتی نہ جائیں۔پس بہت غور کرنے کی ضرورت ہے ، بہت زیادہ جائزے لینے کی ضرورت ہے۔فرمایا یہ تو سچ ہے کہ وہ میرے متبعین کو میرے منکروں اور میرے مخالفوں پر غلبہ دے گا۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ متبعین میں سے ہر شخص محض میرے ہاتھ پر بیعت کرنے سے داخل نہیں ہو سکتا۔جب تک اپنے اندر وہ اتباع کی پوری کیفیت پیدا نہیں کرتا متبعین میں داخل نہیں ہو سکتا۔پوری پوری پیروی جب تک نہیں کرتا ایسی پیروی کہ گویا اطاعت میں فنا ہو جاوے اور نقشِ قدم پر چلے، اس وقت تک اتباع کا لفظ صادق نہیں آتا۔( فرمایا: ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسی جماعت میرے لیے مقدر کی ہے جو میری اطاعت میں فنا ہو اور پورے طور پر میری اتباع کرنے والی ہو۔اس سے مجھے تسلی ملتی ہے اور میرا غم امید سے بدل جاتا ہے“۔فرماتے ہیں: ہر حال خدا تعالیٰ کے وعدوں پر میری نظر ہے اور وہ خدا ہی ہے جو میری تسکین اور تسلی کا باعث ہے۔ایسی حالت میں کہ جماعت کمزور اور بہت کچھ تربیت کی محتاج ہے یہ ضروری امر ہے کہ میں تمہیں توجہ دلاؤں کہ تم خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرو اور اسی کو مقدم کر لو اور اپنے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک جماعت کو ایک نمونہ سمجھو۔ان کے نقش قدم پر چلو“۔آپ نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے بارے میں فرمایا کہ: ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 597،596۔مطبوعہ ربوہ ) یاد رکھو اب جس کا اصول دنیا ہے اور پھر وہ اس جماعت میں شامل ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اس جماعت میں نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی اس جماعت میں داخل اور شامل ہے جو دنیا سے دست بردار ہے۔