خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد نهم 47 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء اللہ ہمیں اس پر عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں۔اُن سے نپٹنے کو جہنم کافی ہے۔وہ اس میں داخل ہوں گے۔پس تمام ر کیا ہی بر اٹھکانہ ہے۔بعض حدیثوں سے بھی ثابت ہے کہ یہ یہودی بعض دفعہ آنحضرت صلی للی کم کی مجلس میں آتے تھے یا ویسے ملتے تھے تو السّلَامُ عَلَيْكُمْ کی بجائے السّامُ عَلَيْكَ کہہ کر نعوذ باللہ آپ کی موت کی خواہش کیا کرتے تھے ، جیسا کہ پہلے بھی میں گزشتہ خطبوں میں حدیث بیان کر چکا ہوں۔اس پر بعض اوقات صحابہ کہتے کہ ہم اسے قتل کر دیں تو آپ فرماتے : نہیں۔( بخاری کتاب استنابة المرتدین والمعاندین۔۔۔باب اذا عرض الذمی و غیر ہ۔۔۔حدیث نمبر 6926) اس لئے کہ ان کی بیہودہ گوئیوں کا معاملہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔جہنم میں ڈال کر جو سز اخد اتعالیٰ نے دینی ہے وہ اس دنیاوی سزا کی طرح نہیں ہو سکتی۔پس جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں بیشک آپ خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔تا قیامت آپ کا سلسلہ نبوت جاری ہے۔تمام انبیاء سے آپ افضل ہیں لیکن اس کے باوجود رسولوں کی طرح آپ کو دشمنانِ دین کی مخالفتوں اور ہر قسم کے نقصان پہنچانے کی تدبیروں کا سامنا کرنا پڑا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر موقع پر یہی کہا کہ اولو العزم انبیاء کی طرح صبر اور دعا سے کام لے۔یہی آپ کے ماننے والوں کو کہا گیا۔اور خود بھی بیان فرمایا کہ ان دشمنانِ دین کے استہزاء، بیہودہ گوئیوں اور خباثتوں کا میں کس کس رنگ میں بدلہ لوں گا۔بعض کا اس دنیا میں اور بعض کا مرنے کے بعد جہنم کی آگ میں ڈال کر۔ہاں اگر دشمن جنگ کرے اور قوم کا امن و سکون برباد کرے تو پھر اس سے مقابلے کی اجازت ہے۔کیونکہ اس مقابلہ کی اجازت نہ دی گئی تو مذاہب کے مخالفین ہر مذہب کے ماننے والے کا چین اور سکون برباد کر دیں گے۔اس دنیا میں کس طرح خدا تعالیٰ آپ کی توہین کے بدلے لیتا رہا، اس کے بھی بہت سے واقعات ہیں۔ایک بدلے کا اعلان قرآنِ کریم میں یہ کہہ کر فرمایا کہ تبت یدا ابي لَهَبٍ وَ تَبّ(اللهب: 2) کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ شل ہو گئے۔جب آپ نے پہلے دعوی کیا اور اس وقت جب اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کے لئے اکٹھا کیا تو اس شخص نے جو آپ کا چا تھا بڑے نازیبا الفاظ آپ کے بارہ میں استعمال کئے تھے۔(بخاری کتاب التفسیر باب سورة تبت یدا ابی لہب حدیث 4971) تو قادر و تواناخد اجو بڑے سچے وعدوں والا ہے اُس نے اس کو کس طرح پکڑا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک سفر کے دوران اس پر بھیڑیوں نے حملہ کر دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے '۔پس آپ صلی یہ کم جو تا قیامت خدا کے پیارے اور افضل ہیں۔آپ سے کئے گئے خدا تعالیٰ کے وعدے بھی ہمیشہ پورے ہوتے رہیں گے۔ہر زمانے میں دشمنانِ اسلام اپنے انجام کو پہنچتے رہے ہیں اور پہنچتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں آپ صلی علیہ کم کی بندشان کے نظارے اور خدا تعالیٰ کا آپ سے پیار کا سلوک دکھاتا چلا جائے۔اور ہم حقیقی رنگ میں قرآنی تعلیم کو بھی اپنے اوپر لاگو کرنے والے ہوں اور ایسے مومن بننے کی کوشش کریں جس کی آنحضرت صلی ای کم نے اپنی امت سے توقع کی ہے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 18 تا 24 فروری 2011 ، جلد 18 شماره 7 صفحہ 5 تا 7) 1۔نوٹ۔وضاحت کے لئے دیکھیں صفحہ نمبر 57-58