خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 46
46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم كَلَّا لَبِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ - نَاصِيَةِ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةِ - فَلْيَدُعُ نَادِيَهُ - سَنَدُعُ الزَّبَانِيَة - (العلق : 10 تا 19) کیا تو نے اس شخص پر غور کیا جو روکتا ہے ایک عظیم بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔کیا تُو نے غور کیا کہ اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا تقویٰ کی تلقین کرتا۔کیا تو نے غور کیا کہ اگر اس نے پھر جھٹلا دیا اور پیٹھ پھیر لی۔پھر کیا وہ نہیں جانتا کہ یقینا اللہ دیکھ رہا ہے۔خبر دار ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم یقینا اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے ، جھوٹی خطا کار پیشانی کے بالوں سے۔پس چاہیئے کہ وہ اپنی مجلس والوں کو بلا دیکھے۔ہم ضرور دوزخ کے فرشتے بلائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کا سزا دینے کا طریق اس طرح ہے۔آج اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اُس عظیم بندے کی پیروی کرتے ہوئے جو لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور جو ان کو نمازیں پڑھنے سے روکتے ہیں، وہ کون ہیں؟ پس یہ اُن لوگوں کے لئے بھی بڑا خوف کا مقام ہے جو کسی کو عبادت کرنے سے روکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کی خاطر جب زمین و آسمان پیدا کئے ہیں تو پھر اس سے استہزاء کرنے والوں اور کفر میں بڑھنے والوں کو اور تکلیف پہنچانے والوں پر لعنت ڈالتے ہوئے فرماتا ہے کہ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَ يَقُولُونَ سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا وَ اسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَع وَ رَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنَا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَ اَقْدَمَ وَ لكِنْ لَعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قلِيلًا (النساء: 47)۔یہ سورۃ نساء کی سینتالیسویں آیت ہے۔فرمایا کہ یہود میں سے ایسے بھی ہیں جو کلمات کو انکی اصل جگہوں سے بدل دیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔اور بات سُن اس حال میں کہ تجھے کچھ چیز سنائی نہ دے۔اور وہ اپنی زبانوں کو بل دیتے ہوئے اور دین میں طعن کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں۔اور اگر ایسا ہوتا کہ وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور سُن اور ہم پر نظر کر تو یہ ان کے لئے بہتر اور سب سے زیادہ مضبوط قول ہو تا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے۔پس وہ ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑا۔پس یہ لعنت ہے جو اُن لوگوں پر پڑے گی جو یہ راستہ اختیار کریں گے کہ رسول کی توہین کے لا مر تکب ہوں۔پھر یہودیوں کے یہ کہنے پر کہ ہم اتنا کچھ اس رسول صلی علیہ کم سے کر رہے ہیں۔یعنی کہ جو بھی تکلیفیں پہنچا سکتے ہیں اور جو باتیں بنا سکتے ہیں اور جو منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں۔اگر یہ رسول سچا ہے تو خدا تعالیٰ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنْجَوْنَ بِالاثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَوكَ بِمَا لَمْ يُحَيْكَ بِهِ اللَّهُ وَ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ (المجادلة:9) کیا تُو نے ان کی طرف نظر نہیں دوڑائی جنہیں خفیہ مشوروں سے منع کیا گیا؟ مگر وہ پھر بھی وہی کچھ کرنے لگے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔اور وہ گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی کے متعلق باہم مشورے کرتے ہیں اور جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو اس طریق پر تجھ سے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں جس طریق پر اللہ نے تجھ پر سلام نہیں بھیجا۔اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ b