خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 478 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 478

478 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے اس ارشاد سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جو امت مسلمہ پر سے اندھیروں کے بادل چھٹنے کا زمانہ ہو گا۔جس میں آخرین میں مبعوث ہونے والا مسیح و مہدی اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کے ساتھ جگہ جگہ روشنی کے مینار کھڑا کرتا چلا جائے گا۔اور ہر طریق سے راہ ہدایت کے پھیلانے کے سامان کرتا چلا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو اس طرح بھی بیان فرمایا ہے کہ جو دین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ہوا، جو ہدایت کی نعمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اپنے کمال کو پہنچی وہ اس زمانے میں جبکہ ذرائع اور وسائل نے دنیا کو قریب لا کر جسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ Global Village بنا دیا ہے ، رابطوں کی وجہ سے تمام کرہ ارض ایک شہر ہی بن گیا ہے۔اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی کامل ہدایت کی تکمیل اشاعت ہو رہی ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تکمیل ہدایت کا زمانہ تھا اور مسیح محمدی کا زمانہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ ہے۔بس چاہے اُمت کا اول زمانہ ہو یا اُمت کا آخری زمانہ۔دونوں زمانے اس لئے مبارک ہیں کہ ان دونوں زمانوں کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے (ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 49-50)۔پس جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے منسوب ہوتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں تو تکمیل اشاعت ہدایت کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہم پر ڈالی جاتی ہے اور اشاعت ہدایت اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ہم خود بھی اپنی ہدایت کے سامان کرنے والے ہوں۔ہم اپنے عہدوں کی تجدید کرتے ہوئے اُس دور کی مثالوں کو دیکھنے والے ہوں تکمیل ہدایت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور قرونِ اولی کے مسلمانوں نے اپنے آپ کو اُس ہدایت اور تعلیم کا نمونہ بنایا تھا۔اپنے قول و فعل سے اُس کا اظہار کیا تھا اور اُن کے نمونے دیکھ کر ، اُن کے عمل دیکھ کر اُن کا خدا تعالیٰ سے تعلق دیکھ کر ، اُن کے اعلیٰ اخلاق دیکھ کر ایک زمانہ اُن کا گرویدہ ہو گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اسلام پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ تلوار کے زور سے پھیلا ، یہ بتاؤ کہ چین میں کونسی فوجیں چڑھی تھیں جہاں اسلام پھیلایا گیا تھا۔اور یہ مثال دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں، وہاں کونسے مسلمان تلواریں لے کر جنگ کے لئے گئے تھے؟ فرمایا کہ تاجروں اور مبلغین اور مختلف کاموں سے منسلک جو صحابہ تھے یا اُن کے قریبی، اُن کے بعد میں آنے والے تابعین جو تھے اُن مسلمانوں نے ہی اسلام کا پیغام وہاں پہنچایا تھا۔اور اس طرح پہنچایا تھا کہ یہ تاجر لوگ یا مختلف کاروباروں میں ملوث لوگ جو وہاں گئے ہیں تو انہوں نے اپنے نمونے دکھائے، اپنی پاک تعلیم کا اظہار کیا اور اُس کے ذریعے سے وہاں اسلام پھیلا (ماخوذ از پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 468)۔اور آج چین میں ہم دیکھتے ہیں کہ کروڑوں مسلمان بس رہے ہیں۔پس ہر طبقے کے لوگوں کو اپنی حالتوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ہم نے اسلام کا پیغام پہنچانا ہے ، کس طرح ہم نے اپنی حالتوں کو بہتر کرنا ہے ؟ چین کی مثال لی ہے تو یہ ذکر بھی کر دوں کہ آجکل چین میں بد قسمتی سے براہ راست تبلیغ کر کے مسیح محمدی کا پیغام پہنچانا مشکل ہے۔لیکن کیونکہ یہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ خود ہی اس پیغام