خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 41

خطبات مسرور جلد نهم 41 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء اور ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ ہو سکتا ہے یہ کسی قسم کے گرہن کی صورت ہو۔(ماخوذ از نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 506) جو دوسروں کو بھی نظر آئی۔اور پھر آپ صلی اللہ ہم نے اپنے مہدی کے لئے جو پیشگوئی فرمائی کہ فلاں مہینے میں اور فلاں دن میں سورج اور چاند کو گرہن لگے گا۔(سنن الدار قطنی کتاب العیدین باب صفة صلوة الخسوف والكسوف وهيئتهما نمبر 1777 مطبوعہ دارالکتب العلمیة بیروت 2003ء) یہ بھی افلاک کی کائنات کی جو چیزیں ہیں ان کو تابع کرنے والی بات ہے۔اور اُس زمانہ میں جب یہ گرہن لگا تو اُس زمانہ کے اخبارات بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ واقعہ ہوا۔بہر حال اس ساری تمہید سے یا بیان سے میرا مقصد آپ کے بلند مقام کو بیان کرنا ہے۔اس کے علاوہ بھی آپ کے بے شمار معجزات ہمیں روایات میں ملتے ہیں جن سے آپ کے مرتبہ اور خدا تعالیٰ کے آپ سے خاص سلوک کا پتہ چلتا ہے جس کی مثالیں پہلے کبھی نہیں ملتیں ، لیکن ان سب باتوں کے باوجو د کافروں کے اس مطالبے پر جو انہوں نے آپ سے کیا کہ ہمارے سامنے آپ آسمان پر چڑھیں اور کتاب لے کر آئیں جسے ہم پڑھیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً (بنی اسرائیل : 94)۔ان کو کہہ دے کہ میرارب ان باتوں سے پاک ہے۔میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔پس آپ کا مقام گو سب انسانوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ آپ انسانِ کامل ہیں، لیکن جہاں تک بشر رسول ہونے کا سوال ہے ، آپ صلی کی کمی سے بھی خدا تعالیٰ نے وہی سلوک فرمایا جو باقی رسولوں سے فرمایا۔یعنی جہاں، جس طرح باقی رسولوں کی اُن کی قوموں نے مخالفت کی، آپ سے بھی کی اور آپ کیونکہ تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لئے ہیں اس لئے آپ کی مخالفت اُس زمانہ میں آپ کی زندگی میں بھی کی گئی اور اب بھی کی جارہی ہے اور کی جاتی رہے گی۔باقی انبیاء کا بھی استہزاء ہوا تو آپ کا بھی استہزاء ہوا اور کیا جا رہا ہے۔لیکن سعید فطرت لوگ پہلے بھی انبیاء کو مانتے رہے۔آپ کو بھی آپ کے زمانہ میں مانا بلکہ سب سے زیادہ مانا بلکہ آپ کی زندگی میں عرب میں پھیلا اور عرب سے باہر قریب کے علاقوں تک اسلام پھیل گیا۔اور پھر ایک دنیا نے دیکھا کہ تمام دنیا میں پھیل گیا اور آج تک پھیلتا چلا جارہا ہے اور ایک وقت آئے گا جب دنیا کی اکثریت اسلام اور آنحضرت صلی ال نیم کے جھنڈے تلے ہو گی۔آپ صلی ایم کے ذمہ تبلیغ کا کام اللہ تعالیٰ نے لگایا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رنك (المائدة :68) تیرے رب کی طرف سے جو کلام تجھ پر اتارا گیا ہے، اسے لوگوں تک پہنچا۔پس آپ نے حسن و احسان سے ، پیار سے ، عفو سے ، صبر سے ، دعائیں کرتے ہوئے یہ پیغام پہنچایا۔غیر تو خیر آنحضرت صلی اللہ ظلم پر یہ الزام لگاتے ہی ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا لیکن بعض مسلمان علماء، یا علماء کہلانے والے بھی یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اسلام جنگوں کے ذریعہ سے پھیلا۔حالانکہ ہجرت کے بعد جب مکہ سے مدینہ ہجرت ہوئی ہے اور پھر جب اگلے سال میں جنگ بدر ہوئی ہے تو اس کے بعد صلح حدیبیہ تک مختلف جنگیں ہوتی رہیں، جس میں زیادہ سے زیادہ جنگ احزاب میں