خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 446

ورو 446 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہم احمدی ہو گئے ہیں، احمد کی ہونے سے ہمارے اختلافات ختم ہو گئے ہیں، آج ہم دوبارہ ایک ہو گئے ہیں اور ہمیں ایک ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ہر ایک کو جمع کرنے آئے ہیں، اکٹھا کرنے آئے ہیں، ایک بنانے کے لئے آئے تھے تا کہ ہم مسلمان ایک ہو کر اسلام کی ترقی کے لئے آگے بڑھیں اور اس لئے بہر حال ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے اور مل کے جمعہ پڑھنا چاہئے۔چنانچہ دونوں پہ اس کا اثر ہوا اور جو مدتوں کے بچھڑے ہوئے تھے آپس میں لڑائیاں تھیں ہو سکتا ہے قبائلی لڑائیاں ہوں جمعہ کے ذریعہ پھر مل گئے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جماعت کے ذریعہ سے یوم الجمعہ کا مضمون بھی ایک نئے طریقے سے پورا ہوا۔پندرہ سال کے بعد ان لوگوں نے جمعہ پڑھا اور پھر اس جمعہ کی برکت سے دونوں گاؤں کی آپس کی رنجشیں بھی ختم ہو گئیں۔بس جب یہ باتیں ہوتی ہیں تو پھر صرف رنجشیں ختم نہیں ہو تیں، پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رحماء بینھم کا ایک مضمون شروع ہو تا ہے۔پھر ایک دوسرے کی خاطر رحم کے جذبات ابھرتے ہیں، قربانی کے جذبات اُبھرتے ہیں اور یہی ایک مومن کی شان ہے اور یہی وہ پاک تبدیلیاں ہیں جن کو پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔پھر امیر صاحب جماعت احمد یہ دہلی تحریر کرتے ہیں کہ محمد مرسلین صاحب 2008ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کے تین دن بعد خواب میں دیکھا کہ آپ کسی پروگرام میں گئے ہیں اور وہاں ایک پرانی سی عمارت کے ایک کمرے میں چلے جاتے ہیں۔اس کمرے میں دولوگ اور بھی تھے جو اند ھیر اہونے کی وجہ سے پہچانے نہ جاسکے۔یہ لکھتے ہیں امیر صاحب، که مرسلین صاحب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے ہیں اور جب یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ اور بھی ہیں تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھو چھو کر دیکھتے ہیں۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی چھت کی طرف اُٹھائی اور یوں لگا کہ پورا آسمان پھٹتا چلا گیا۔اور یہ لکھتے ہیں کہ مجھے بہت خوبصورت اور دلکش نظارہ جس میں پھولوں کے باغات وغیرہ تھے نظر آنے لگے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انگلی گھمائی اور یہ نظارہ بند ہو گیا۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں ممبئی جارہا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ پنجاب کیوں نہیں جاتے؟ اس کے بعد کہتے ہیں میری آنکھ کھل گئی۔کہتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ قائد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کو جو اُن کے واقف تھے سنایا، انہوں نے کہا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اس لئے ہم قادیان چلتے ہیں۔تو قائد صاحب کے ساتھ یہ پہلی دفعہ قادیان گئے۔وہاں دارا المسیح کی زیارت کی، لکھتے ہیں کہ جب میں بیت الریاضت میں گیا تو میں نے اُس کمرے کو ویسا ہی پایا جیسا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا۔اس سے میرے ایمان کو بہت تقویت ملی اور دل کو بہت سکون ملا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت میں بھی شامل ہوئے اور ایمان میں بھی ترقی کر رہے ہیں۔ان نئے شامل ہونے والوں کو ایمان میں ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ دعاؤں کی قبولیت کے نشانات بھی دکھاتا ہے۔اس کے چند واقعے پیش کرتا ہوں جو ان دور دراز رہنے والے احمدیوں کے لئے بھی از دیادِ ایمان کا باعث بنے ہیں اور ہمارے لئے بھی یقینا بنیں گے۔