خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 430
خطبات مسرور جلد نهم 430 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو آگے چلاتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : دعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسم اعظم جمع ہوں اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ وووو کرے۔خواہ وہ اس کی ہوا و ہوس ہی کا بت کیوں نہ ہو ؟ جب یہ حالت ہو جائے تو اُس وقت اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 37 مطبوعہ ربوہ) کا مزا آ جاتا ہے”۔جب انسان ربنا اللہ کہتا ہے جب یہ پکار ہو گی اور پھر اُس پر استقامت دکھاتا ہے تو تب جو دعاؤں کی توفیق ملتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اصل توفیق ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ اُدعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُھ کا مزا آتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا۔پس استقامت شرط ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھتے ہوئے ، اُسی کو رب سمجھتے ہوئے، اُس کے آگے جھکنا شرط ہے۔پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ یہ دعا لوگوں کے تمام مراتب پر حاوی ہے ، یعنی کسی بھی مرتبے کا آدمی ہو اُسے اس دعا کی ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں : پس خلاصہ یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) کی دعا انسان کو ہر کبھی سے نجات دیتی ہے اور اس پر دین قویم کو واضح کرتی ہے اور اُس کو ویران گھر سے نکال کر پھلوں اور خوشبوؤں بھرے باغات میں لے جاتی ہے اور جو شخص بھی اس دعا میں زیادہ آہ وزاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کو خیر وبرکت میں بڑھاتا ہے۔دعا سے ہی نبیوں نے خدائے رحمان کی محبت حاصل کی اور اپنے آخری وقت تک ایک لحظہ کے لئے بھی دعا کو نہ چھوڑا اور کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس دعا سے لا پرواہ ہو یا اس مقصد سے منہ پھیر لے، خواہ وہ نبی ہو یا رسولوں میں سے، کیونکہ رُشد اور ہدایت کے مراتب کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ بے انتہا ہیں اور عقل و دانش کی نگاہیں اُن تک نہیں پہنچ سکتیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی اور اسے نماز کا مدار ٹھہر ایا تالوگ اُس کی ہدایت سے فائدہ اُٹھائیں اور اس کے ذریعہ توحید کو مکمل کریں اور ( خدا تعالیٰ کے ) وعدوں کو یاد رکھیں اور مشرکوں کے شرک سے نجات پاویں۔اس دعا کے کمالات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کے تمام مراتب پر حاوی ہے اور ہر فرد پر بھی حاوی ہے۔وہ ایک غیر محدود دعا ہے جس کی کوئی حد بندی یا انتہا نہیں اور نہ اس کی کوئی غایت یا کنارہ ہے۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جو خدا کے عارف بندوں کی طرح اس دعا پر مداومت اختیار کرتے ہیں، زخمی دلوں کے ساتھ جن سے خون بہتا ہے اور ایسی روحوں کے ساتھ جو زخموں پر صبر کرنے والی ہوں اور نفوس مطمئنہ کے ساتھ “۔( یعنی مستقل مزاجی کے ساتھ اور درد کے ساتھ اس دعا پر قائم رہتے ہیں)۔فرمایا ” یہ وہ دعا ہے جو ہر خیر ، سلامتی، پختگی اور استقامت پر مشتمل ہے اور اس دعا میں رب العالمین کی طرف سے بڑی بشارتیں ہیں۔“ (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 136-137 صفحہ 95-94۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 234،233) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔میں اس کا خلاصہ بیان کر دوں کہ کیوں یہ سب مراتب کے لوگوں کے لئے ضروری ہے؟ اس لئے کہ انسان کو ہر قسم کے ٹیڑھے پن اور کبھی سے یہ بچاتی ہے۔