خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 370
370 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اور اس لئے بعض دفعہ یہاں بھی بعض قوموں کی طبائع کے مطابق مختلف کھانے پکتے ہیں۔پس حالات کے مطابق اگر کبھی کسی وقت مختلف کھانا پکانے کا فیصلہ ہوتا ہے تو کسی فریق کو بُرا نہیں منانا چاہئے ، کسی شخص کو بُرا نہیں منانا چاہئے۔لیکن عموما کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایک جیسا کھانا ملے سوائے بیماروں کے جیسا کہ میں نے کہا یا غیر ملکی مہمان جو ہیں یا غیر از جماعت جو ہیں اُن کے لئے کچھ تھوڑا سا خاص کھانا بھی پکایا جاتا ہے لیکن انتظامیہ یا عہدیداروں کا یہ کام نہیں ہے کہ اپنے لئے خاص کھانے پکوائیں۔وہاں جب ایک جگہ یہ سوال اُٹھا تھا شخص جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا کہ ایک عہدیدار نے اپنے لئے بٹیرے پکوالئے اور ایک دوسرے کے لئے جو مہمان تھے ، جب اُن کو پتہ لگا اُنہوں نے مطالبہ کیا تو انہیں نہیں دیئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم میں جب یہ آیا تو آپ نے فوری طور پر باورچی سے بٹیرے منگوا کر اس مہمان کو بھجوائے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کل سب کے لئے بٹیرے پکیں گے تاکہ انصاف قائم رہے۔(ماخوذازر جسٹر روایات صحابہ جلد 15 صفحہ 17 غیر مطبوعہ ) ئنا ہے اس پر کسی نے مذاقاً جلسے کی انتظامیہ کو یہ پیغام بھجوایا تھا کہ اب تمہارے ذمہ یہ لگا دیا گیا ہے کہ جلسہ پر بٹیرے پکایا کرو۔شاید افسر صاحب جلسہ سالانہ اس پیغام کو سن کر پریشان بھی ہو گئے ہوں۔کیونکہ ان کا یہ پہلا سال ہے اور پریشان بھی ذرا جلدی ہو جاتے ہیں کچھ موسمی حالات کی وجہ سے بھی پریشان ہیں۔اُن کے لئے دعا بھی بہت کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے کاموں میں برکت ڈالے۔اور افسر صاحب بھی تسلی رکھیں کہ بٹیروں کا یہ مطالبہ کوئی سنجیدہ مطالبہ نہیں ہے۔لیکن بہر حال ہر ایک کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ مہمان کی عزت اور جذبات کا خیال رکھا جائے۔بٹیروں کی بجائے بیشک دال کھلائیں لیکن عزت کے ساتھ کھلائیں۔حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل روایت کرتے ہیں کہ جب لاہور میں حضرت صاحب ایک لیکچر کے ارادہ سے تشریف لائے۔سولہ دن آپ کا قیام لاہور میں رہا۔کھانے کا انتظام جن احباب کے سپر د تھا اُن میں میں بھی شامل تھا۔غالباً خلیفہ رجب الدین نے کسی مہمان کو کہ دیا کہ پانی بھی ساتھ پیو۔بیچارے زیادہ کھانا کھانے والے ہوں گے۔کہہ دیا کھانا کھائے جارہے ہو پانی بھی ساتھ پیو۔یہ بات کسی طرح حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچ گئی کہ مہمانوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور کھانا خاطر خواہ نہیں ملتا۔حضور باہر تشریف لائے اور دروازے میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ کون منتظم ہے ؟ ہم نے عرض کہ حضور ہم حضور کے خادم ہیں۔حضور نے فرمایا میں نے سنا ہے کہ لوگوں کو کھانا اچھا نہیں ملتا اور بعض کو کہا جاتا ہے کہ بازار سے کھا لو، کیا یہ بات صحیح ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ حضرت! بے تکلفی میں کسی نے کسی کو کہا ہے ورنہ انتظام سب ٹھیک ہے۔فرمایا نہیں ہم اپنے لنگر کا انتظام خود کریں گے، مہمان ہمارے ہیں اور لنگر کا انتظام بھی ہمارے ہی ذمہ عائد ہوتا ہے۔بعض لوگوں نے مل کر معافی کی درخواست کی اور آئندہ احتیاط کا وعدہ کیا۔پھر حضور نے معاف فرمایا اور لنگر جماعت کی طرف سے جاری رہا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9 صفحہ 270-271 غیر مطبوعہ)