خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 356
خطبات مسرور جلد نهم 356 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء حضرت چوہدری عبد اللہ خان صاحب ولد چوہدری الہی بخش صاحب داتہ زید کا لکھتے ہیں کہ ”ایک دفعہ ستمبر کے مہینہ میں چوہدری نصر اللہ خان صاحب اور میں ظہر کے وقت قادیان پہنچے۔وضو کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔نماز کے بعد حضرت صاحب محراب میں تشریف فرما ہو گئے۔چوہدری صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا چوہدری صاحب ابھی آئے ہو، کھانا کھا لو۔چوہدری صاحب نے مسکرا کر عرض کیا کہ حضور ! کھانے کا کوئی وقت ہے؟ مسکرا کر فرمایا چوہدری صاحب! کھانے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے۔جب بھوک لگی کھالیا۔حضور نے خادم کو بھیجا، کھانا تیار کروا کر لایا اور ہم نے مولوی محمد علی صاحب کے کمرہ میں بیٹھ کر کھایا۔اسی سال کا ذکر ہے بارش بڑی ہوئی تھی جس مکان میں آج کل حضرت میاں بشیر احمد صاحب ہیں یہ مہمان خانہ ہوا کرتا تھا۔یہ مسجد اقصیٰ کے قریب کا مکان ہے ) ہم اُس جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔میاں نجم الدین لنگر خانہ کے مہتمم تھے۔لوگوں نے حضرت صاحب کو آواز دے کر عرض کیا کہ حضور! ایک پٹھان ہے وہ گوشت کے بغیر کھانا نہیں کھاتا۔حضور نے فرما یا اُس کو گوشت پکا دو۔میاں نجم الدین صاحب نے عرض کی کہ حضور ! بارش کی وجہ سے قصابوں نے گوشت کیا نہیں ہے۔آج کوئی بکر او غیرہ قصائیوں نے ذبح نہیں کیا۔حضور نے فرمایا : اچھا (تو) مرغ تیار کر کے کھلا دو۔ایک دن وہ پھر آئے اور حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! ایک پٹھان ہے جو کہتا ہے کہ میں نے کھچڑی کھانی ہے۔فرمایا ان کو کھچڑی پکا دو“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 10 صفحہ 272-273 غیر مطبوعہ ) سو مہمانوں کی ( جو عام طور پر مہمان آتے تھے) اُن کی خواہشات کا بھی احترام فرمایا کرتے تھے۔حضرت چوہدری عبد الرحیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے مجھے پانچ سو روپیہ عطا فرمایا اور فرمایا کہ جلسے کا انتظام آپ کے سپرد کرتا ہوں مگر یاد رہے کہ تمام احباب کے لئے صرف ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیا جائے۔(اگر عام دنوں میں عام مہمان آرہے ہیں تو ان کے لئے جو اُن کی خواہش ہوتی تھی وہ پکوادیا جاتا تھا، لیکن جلسے کے لئے فرمایا کہ سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار ہونا چاہئے۔پہلے بھی ایک روایت آگئی ہے ، اب یہ دوسری روایت ہے)۔بعض لوگوں نے عرض کی کہ مولوی حکیم فضل دین صاحب زیادہ تجربہ رکھتے ہیں مگر حضور نے کوئی جواب نہ دیا۔خیر خواجہ کمال دین صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے میرے لئے چاول تیار کر وا دو۔میں نے کہا مجھے تو حضرت صاحب کا حکم ہے کہ سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کر وایا جائے اس لئے اگر آپ چاول کھانا چاہتے ہیں تو اجازت لے دیں۔کہنے لگے چاولوں کے لئے کیا اجازت مانگوں۔میں نے کہا پھر تو میں حضور کی اجازت کے بغیر ایک چاول بھی نہیں دے سکتا۔اس پر وہ بہت ناراض ہوئے اور جب تک یہاں رہے مجھ پر ناراض ہی رہے۔(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 11 صفحه 175 غیر مطبوعہ ) میاں عبد العزیز صاحب مغل رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں کہ ” جب مہمان خانہ اُس مکان میں ہوتا تھا