خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 338
338 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مور محد 08 جولائی 2011ء ہے جو قرآنی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں پیدا کرنے آئے ہیں۔تو اُس وقت ایک شخص جس کے بارہ میں پہلے میں اس کی باتیں سن کر سمجھا تھا کہ احمدی ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس نے اس وقت تک بیعت نہیں کی تھی لیکن جماعت کے بہت قریب تھا میری بات ختم ہونے کے بعد اجازت لے کر کھڑا ہوا ( یہ دوست غالباً مرا کو کے تھے) اور بڑے جذباتی انداز میں کہنے لگا کہ آج آپ کی یہ باتیں سُن کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کا یہ کام بھی ہے کہ انسانوں کو باخدا انسان بنائیں۔میں عہد کرتا ہوں کہ اپنی بھی اصلاح کروں گا اور انشاء اللہ تعالیٰ مسیح موعود کامددگار بن کر اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا میں پھیلا کر دنیا کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے والا بھی بنوں گا۔وہ کہنے لگا کہ آج میں احمدیت میں شامل ہونے کا اعلان بھی کرتا ہوں۔اگر پہلے کوئی شکوک و شبہات تھے بھی تو آپ کی باتیں سُن کر یہ ختم ہو گئے ہیں۔کہنے لگا کہ بس میری بیعت لیں اور مجھے مسیح موعود کے سلطان نصیر میں شامل کریں۔چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور اُن کے ساتھ سات آٹھ اور بھی بیعت میں شامل ہوئے جس کی تفصیلی رپورٹ تو وکیل التبشیر ، ماجد صاحب لکھ رہے ہیں۔الفضل میں شائع ہو رہی ہے۔بہر حال ان سب بیعت کرنے والوں کی بڑی جذباتی کیفیت تھی اور ایک عزم تھا کہ اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کے لئے جس کی بھی ضرورت ہے وہ ہم کریں گے اور جو ہم نے حاصل کیا ہے اُسے آگے بھی پہنچائیں گے۔وہاں جو بیعتیں ہو رہی ہیں، جو نئے آنے والے ہیں اُن میں تبلیغ کا بھی بڑا شوق ہے اور سب سے پہلے اپنے خاندان اور عزیزوں سے تبلیغ شروع کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ انہیں حقیقی اسلام کی آغوش میں لا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن میں اس کے لئے ایک جذبہ اور جوش پیدا ہوا ہوا ہے۔یہاں یہ بھی ذکر کر دوں کہ گزشتہ جمعہ سے تین دن کے لئے بیلجیئم کا بھی جلسہ سالانہ ہوا تھا جس کا میں گزشتہ جمعہ میں ذکر نہیں کر سکا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ بیلجیئم بھی اب بیعتوں اور رابطوں اور احمدیت کا پیغام پہنچانے میں بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔اصل میں تو اللہ تعالیٰ ہی راستے کھول رہا ہے۔دنیا میں ہر جگہ ایک ہوا چلی ہوئی ہے۔جماعت جو ہے اُس کی حقیقی شکر گزاری یہی ہے کہ جو راستے اللہ تعالیٰ کھول رہا ہے اُس سے بھر پور فائدے اٹھائیں اور نئے آنے والوں کو سنبھالیں اور اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ دیں۔اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا واپسی پر ہالینڈ میں بھی قیام تھا۔ہالینڈ کا جلسہ بھی آج سے شروع ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ اُن کے جلسہ میں شامل ہونے والوں کو بھی جلسہ کی برکات سے مستفیض فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔ہر لحاظ سے یہ جلسہ بابرکت ہو اور پھر یہ لوگ بھی پہلے سے بڑھ کر تبلیغی اور تربیتی میدان میں بہت زیادہ ترقی کرنے والے بنیں۔وہاں اسلام کے خلاف کیونکہ اکثر کہیں نہ کہیں سے آواز اُٹھتی رہتی ہے اس لئے انہیں بہت زیادہ محنت اور دعا کی ضرورت ہے اور کوشش بھی کرنی چاہئے۔تمام ذیلی تنظیموں کو بھی اور جماعت کو بھی مربوط پروگرام بنا کر اسلام کی خوبصورت تعلیم ملک کے ہر شخص تک پہنچانے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔