خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 214 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 214

خطبات مسرور جلد نهم 214 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء سے ڈر کی وجہ سے آنسوؤں سے تر تھیں۔پھر نماز کے لئے اُٹھا تو میرا یہ ڈر ختم ہو گیا تھا اور سکینت میرے دل پر اترتی محسوس ہوئی۔یہ کہتے ہیں کہ اس خواب سے مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی صداقت مجھ پر واضح ہو گئی، سمجھ آ گئی کیونکہ میں دعا کر رہا تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ہانی طاہر صاحب لکھتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل لبنان سے ایک دوست مکرم جمیل صاحب نے بیعت کی تھی۔انہوں نے اپنی بہن یاسمین کو تبلیغ کرنی شروع کی لیکن وہ قائل نہ ہوتی تھی۔آج انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اب اس نے ایک خواب کی بنا پر بیعت کا فیصلہ کیا ہے۔لکھتی ہیں کہ ہفتہ کے روز نماز عصر ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے طلب ہدایت کے لئے بہت دعا کی۔رات کو سونے سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت پڑھ رہی تھی۔( بیعت تو نہیں کی تھی لیکن دشمنی ایسی بھی نہیں تھی کہ کتابیں نہ پڑھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت پڑھ رہی تھیں) اسی دوران نیند آگئی اور خواب میں حضور انور کو بعض اور لوگوں کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔حضور نے پوچھا کہ کیوں بیعت کرنا چاہتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کی باتیں درست اور معقول ہیں۔اس لئے بیعت کرنا چاہتی ہوں۔اس کے بعد خواب میں ہی بیعت کر لی۔بیدار ہونے کے بعد محسوس ہوا کہ خواب حقیقت سے بھی زیادہ واضح تھی۔محمود يحي على صاحب یمن کے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت جاننے کے لئے استخارہ کیا تو خواب میں آپ کو دیکھا کہ آپ خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس ایک سفید شاخوں والے درخت کے پاس کھڑے ہیں جس کی بلندی تقریباً دو میٹر ہے اور کوئی کتاب پڑھ رہے ہیں، اس کے بعد آنکھ کھل گئی لیکن حضور کے الفاظ یاد نہیں رہے۔کہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد پھر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خانہ کعبہ میں منبر رسول پر کھڑے خطاب فرما رہے ہیں۔اس پر آنکھ کھل گئی۔اس کے بعد لوگوں کو جماعت کے افکار و عقائد کی تبلیغ میں نے شروع کی تو اُن کی طرف سے ہنسی مذاق کا نشانہ بننا پڑا۔انہوں نے مجھے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تم ذہنی مریض ہو گئے ہو۔بعض نے بد زبانی کی۔بعض نے بات کرنا ہی چھوڑ دی۔لیکن الہی جماعتوں کے ساتھ تمسخر اور استہزاء تو لوگوں کی پرانی عادت ہے جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے۔بہر حال میں نے مع اہلیہ وبچے بیعت کر لی۔مکرم عبد القاعد احمد صاحب یمن سے لکھتے ہیں کہ دو سال سے ایم۔ٹی۔اے دیکھ رہا ہوں۔اُن سارے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں جن کا جواب جماعت احمدیہ کے علاوہ کسی کے پاس نہ تھا۔پہلی دفعہ ایم۔ٹی۔اے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ کر دل کو تسلی ہو گئی کہ یہ شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اس کے بعد متعدد مبشر خوا ہیں دیکھی ہیں۔چند ایک عرض ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ دیکھا کہ حضرت عزرائیل مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ تمہاری عمر ختم ہو چکی ہے۔پھر مجھے ایک خوبصورت اور خوشنما جگہ پر لے گئے جہاں غیر عرب لوگ سفید لباس اور پگڑیاں پہنے ہوئے ہیں۔پھر