خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 137

خطبات مسرور جلد نهم 137 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء پنجاب کی بات کرتے تھے کہ پنجاب میں زلزلے نہیں آئے تو آپ نے فرمایا: اس سے پنجاب بھی مستقلی نہیں۔نہ بر صغیر کا کوئی اور شہر یا علاقہ مستثنی ہے۔آپ نے واضح طور پر فرما دیا کہ حق جو ہے وہ چھپانے سے چھپا نہیں کرتا۔اس لئے تم لوگ فکر کرو۔(ماخوذ از حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 267 تا 269) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔آپ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں کہ : یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔پس یقینا سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض اُن میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدر موت ہوگی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔اس موت سے پر ند چرند بھی باہر نہیں ہونگے اور زمین پر اس قدر سخت تباہی آئے گی کہ اِس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہو گی۔اور اکثر مقامات زیر و زبر ہو جائیں گے کہ گویا اُن میں کبھی آبادی نہ تھی۔اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین اور آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی۔یہاں تک کہ ہر ایک عقلمند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہو جائیں گی اور ہیئت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں اُن کا پتہ نہیں ملے گا۔تب انسانوں میں اضطراب پیدا ہو گا کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔اور بہتیرے نجات پائیں گے اور بہتیرے ہلاک ہو جائیں گے۔وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی اور نہ صرف زلزلے بلکہ اور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی، کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہو تا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی، پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے جیسا کہ خدا نے فرمایا۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل: 16)۔اور تو بہ کرنے والے آمان پائیں گے اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں اُن پر رحم کیا جائے گا۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچاسکتے ہو ؟ ہر گز نہیں۔انسانی کاموں کا اُس دن خاتمہ ہو گا۔یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک اُن سے محفوظ ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید اُن سے زیادہ مصیبت کا مُنہ دیکھو گے۔اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کریگا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اُس کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سُننے کے ہوں سُنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں، پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔اور جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مُردہ ہے نہ کہ زندہ۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن۔جلد 22۔صفحہ 269،268)