خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 89

89 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہونے کی وجہ سے تحریک کشمیر کی امداد کئی پہلوؤں سے کر رہے تھے اور کارکنان کشمیر طبعاً اُن کے ممنون تھے “۔ذکر اقبال“ از عبد المجید سالک صفحہ 188۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 289 مطبوعہ ربوہ) علامہ نیاز فتح پوری صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی مشہور تفسیر کبیر کا جب مطالعہ کیا تو آپ کی خدمت میں خط لکھا کہ : تفسیر کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور میں اسے بڑی نگاہ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کی تجر علمی، آپ کی وسعتِ نظر ، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست، آپ کا حسن استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا۔کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔کل سورۃ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط علیہ السلام پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا آپ نے کھولاء بناتی کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسرین سے جد ا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے، اُس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔خدا آپ کو تادیر سلامت رکھے ”۔( یہ 1963ء میں لکھا ہے) (الفضل 17 نومبر 1963ء۔صفحہ 3۔بحوالہ ماہنامہ خالد سید نا مصلح موعود نمبر جون، جولائی 2008ء صفحہ 325-324 ) مولانا عبد الماجد دریا آبادی جو خود بھی مفسر قرآن تھے اور صدق جدید “ کے مدیر تھے۔حضور کی وفات پر انہوں نے لکھا کہ : قرآن اور علوم قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی، اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں ، اُن کا اللہ انہیں صلہ دے۔علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح و تبیین اور ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند و ممتاز مر تبہ ہے“۔(بحوالہ سوانح فضل عمر جلد سوئم صفحہ 168 بحوالہ ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعود نمبر جون، جولائی 2008ء صفحہ 325 ) پس یہ میں نے پیشگوئی کے پس منظر کا، پیشگوئی کا اور اس کا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی کے بارے میں پورا ہونے کا مختصر بیان کیا ہے۔آپ کے علمی کارنامے ایسے ہیں جو دنیا کو نیا اند از دینے والے ہیں جس کا دنیا نے اقرار کیا، جس کے چند نمونے میں نے پیش کئے ہیں۔معاشی، اقتصادی، سیاسی، دینی، روحانی سب پہلؤوں پر آپ نے جب بھی قلم اٹھایا ہے یا تقریر کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، یا مشوروں سے امتِ مسلمہ یا دنیا کی رہنمائی فرمائی تو کوئی بھی آپ کے تجر علمی اور فراست اور ذہانت اور روحانیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔آپ مصلح موعودؓ تھے ، دنیا کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا، جس میں روحانی، اخلاقی اور ہر طرح کی اصلاح شامل تھی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کا باون سالہ دورِ خلافت تھا اور آپ نے خطبات جمعہ کے علاوہ بے شمار کتب بھی تحریر فرمائی ہیں۔تقاریر بھی فرمائیں، جن کو جب تحریر میں لایا گیایا لایا جارہا ہے تو ایک عظیم علمی اور روحانی خزانہ