خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 78

78 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہے اور ظلماتی پر دے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہو تا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پاکر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے“۔(براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 558,557 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی بات لے لیں۔آپ کی زندگی کے کسی عمل کی طرف نظر کر لیں، آپ کی کسی تحریر کو لے لیں، ان سب کا رُخ اللہ تعالیٰ، قرآن مجید اور آنحضرت صلی علی نیم کی طرف ہی نظر آئے گا۔آپ علیہ السلام نے دنیا کو بتادیا اور ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ آج اگر کوئی زندہ مذہب ہے تو وہ اسلام ہے۔آج اگر کوئی زندہ رسول ہے جو خدا سے ملاتا ہے تو حضرت محمد مصطفی صلی یہ کام ہیں جن کی پیروی سے خدا ملتا ہے۔اور آج اگر کوئی کامل کتاب ہے جو تمام قسم کی تحریفوں اور آلائشوں سے پاک ہے اور اپنی اصل حالت میں ہے، جس کے پڑھنے سے حقانی علوم و معارف حاصل ہوتے ہیں، جس کے پڑھنے سے انسان کا دل پاک ہوتا ہے۔یعنی خالص ہو کر پڑھنے سے ، ورنہ تو جو پاک نہیں ہے، خالص نہیں ہے اس کو تو قرآن پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔یہی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بھی فرمایا ہے۔پس آپ علیہ السلام نے ہمیں اس سوچ سے پر کیا۔ہمارے دل و دماغ کو یہ عرفان عطا فرما یا کہ آج اگر کوئی زندہ نبی ہے تو وہ آنحضرت صلی علیم کی ذات ہے جنہوں نے ہمیں خدا سے ملایا۔ایک براہِ راست تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کرنے کی طرف رہنمائی فرمائی تاکہ دلوں کے اندھیرے دور ہوں اور بندے اور خدا میں ایک تعلق پیدا ہو۔آپ کی کتاب ہی وہ زندہ کتاب ہے جس میں قیامت تک کے لئے وہ تمام احکام ، اوامر و نواہی اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے طریقے بیان ہو گئے ہیں جن سے باہر سوچنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں، نہ انسان میں طاقت ہے کہ سوچ سکے۔اس عظیم اور ہمیشہ زندہ رہنے والے نبی نے اپنی پیروی کرنے والے کاخد اتعالیٰ سے تعلق جس طرح آج سے چودہ سو سال سے زائد عرصہ پہلے سے جوڑا تھا، ویسا تعلق آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اُسی تر و تازگی کے ساتھ جوڑا ہے۔بلکہ جب وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة: 4) کی قرآنی پیشگوئی کے پورا ہونے کا زمانہ آیا تو اس عشق و محبت کی وجہ سے جو غلام کو اپنے آقا سے تھا مسیح موعود کی بعثت ایمان کو ثریا سے زمین پر لانے کا باعث بن گئی۔اور ایک نئی شان سے دین محمدی دنیا میں دوبارہ مسیح موعود کے ذریعے سے قائم ہو گیا۔آخرین جو ہیں وہ اولین سے جوڑ دیئے گئے۔حدیث میں ایمان کو ثریا سے لانے کا یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہم آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔جب آپ نے اُس کی آیت وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) پڑھی، جس کے معنی یہ ہیں