خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 613 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 613

613 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم معاذ اللہ۔کیونکہ اس سلسلہ کی اتم مشابہت اور مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اس چودھویں صدی پر اسی امت میں سے ایک مسیح پیدا ہو تا اسی طرح پر جیسے موسوی سلسلہ میں چودھویں صدی پر ایک مسیح آیا۔اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو اُخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) میں ایک آنے والے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی بلکہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا پھر سوچو کہ میری تکذیب کوئی آسان امر ہے یہ میں از خود نہیں کہتا بلکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے اَنْتَ مِنّى وَ آنَا مِنْكَ“ بے شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی اور اس کی ہستی پر قوی ایمان پیدا ہوتا ہے۔اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرآت کرے۔ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے ؟“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 364-365 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ دوسری کتاب میں ایک جگہ فرماتے ہیں: پس تم خوب یاد رکھو کہ تم اس لڑائی میں اپنے ہی اعضاء پر تلواریں ماررہے ہو سو تم ناحق آگ میں ہاتھ مت ڈالو ایسا نہ ہو کہ وہ آگ بھڑ کے اور تمہارے ہاتھ کو بھسم کر ڈالے۔یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہو تا تو بہتیرے اس کے نابود کرنے والے پیدا ہو جاتے اور نیز یہ اس اپنی عمر تک بھی ہر گز نہ پہنچتا۔۔۔۔کیا تمہاری نظر میں کبھی کوئی ایسا مفتری گذرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ پر ایسا افترا کر کے کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہے۔پھر اس مدت مدید کے سلامتی کو پالیا ہو۔افسوس کہ تم کچھ بھی نہیں سوچتے اور قرآن کریم کی ان آیتوں کو یاد نہیں کرتے جو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نسبت اللہ جل شانہ فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو ایک ذرہ مجھ پر افترا کر تا تو میں تیری رگ جان کاٹ دیتا۔پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے زیادہ تر کون عزیز ہے کہ جو اتنابڑا افترا کر کے اب تک بچا رہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال بھی ہو۔سو بھائیو نفسانیت سے باز آؤ۔اور جو باتیں خدائے تعالیٰ کے علم سے خاص ہیں ان میں حد سے بڑھ کر ضد مت کرو اور عادت کے سلسلہ کو توڑ کر اور ایک نئے انسان بن کر تقویٰ کی راہوں میں قدم رکھو تا تم پر رحم ہو اور خدا تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دیوے۔سو ڈرو اور باز آجاؤ۔کیا تم میں ایک بھی رشید نہیں۔وَانْ لَّمْ تَنْتَهُوا فَسَوْفَ يَأْتى اللهُ بِنَصْرَةٍ مِّنْ عِنْدِهِ وَيَنْصُرُ عَبْدَهُ وَ يُمَزِّقُ أَعْدَاءَةُ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًد 66 آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 54-55)