خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 448

448 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کی سچائی کا واسطہ دیتاہوں کہ مجھے میرا بچہ دے دے۔کہتے ہیں کہ میں کافی دیر دعا میں روتا رہا اور اپنے رب سے بچے کی واپسی کی دعا کر تا رہا۔دعا ختم کرنے کے بعد میں اس راستے سے گھر لوٹ رہا تھا کہ جہاں سے بچہ گم ہوا تھا، ابھی راستے میں ہی تھا کہ اچانک جنگل سے میرا بیٹا مجھے نظر آ گیا۔تو کہتے ہیں کہ میرے لئے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کا زندہ معجزہ تھا جو خدا تعالیٰ نے مجھے دکھایا۔پھر امیر صاحب نائیجر بیان کرتے ہیں کہ یہاں ایک دوست محمد ثالث بینک میں ملازم ہیں۔احمد یہ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آتے تھے۔(مسلمان تھے ، نماز پڑھنے آتے تھے ، ، ابھی تک بیعت نہیں کی تھی)۔ایک روز انہوں نے بیعت کر لی۔ان کے بینک کے افسران اور ساتھی اُنہیں تنگ کرنے لگ گئے کہ جماعت نے انہیں کوئی پیسے دیئے ہیں جس کی وجہ سے وہ احمدی ہوئے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اس بات کا بڑا دکھ ہوا کہ یہ لوگ مجھ پر الزام لگارہے ہیں کہ میں پیسے لے کر احمدی ہوا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ اُس رات میں نے جماعت کی سچائی کے حوالے سے بہت دعا کی کہ اے اللہ ! تو خود میری رہنمائی فرما۔بظاہر تو یہ جماعت اسلام کی خدمت میں سب سے آگے ہے مگر اندر کی بات تو مجھے سمجھا دے۔میں تو ظاہری بات کو دیکھ کر بات کر رہا ہوں۔تو وہ کہتے ہیں کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا اجتماع ہے ، جہاں تک نظر جاتی ہے لوگ ہی لوگ نظر آرہے ہیں اور سب نے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سٹیج پر انہوں نے مجھے دیکھا ( لکھ رہے ہیں، اپنے امیر صاحب کو ) خلیفہ المسیح الخامس کو دیکھا، سٹیج پر میں کھڑا ہوں اور کہتے ہیں آپ نے بھی سفید کپڑے زیب تن کئے ہوئے ہیں اور اونچی آواز میں آپ لا الهَ إِلَّا اللہ دہرا رہے ہیں اور لوگ بھی آپ کے ساتھ لا اله الا اللہ دہرا رہے ہیں اور ایک عجیب سرور کی سی کیفیت ہے۔محمد صالح صاحب کہتے ہیں کہ ایسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی اور میری زبان پر لا الله اِلَّا الله جاری تھا۔اس پر یہ بات میرے دل میں شیخ کی طرح گڑھ گئی کہ اس دور میں لااله الا اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو عطا فرمائی ہوئی ہے۔اس خواب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے مجھے تسلی دلائی کہ میر ا جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ درست ہے لہذا اب مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں ایمان میں مزید پختہ ہو گیا ہوں۔تو یہ تھے چند واقعات جو میں نے بیان کئے۔کس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ بیعت کر کے ایمان میں پختگی حاصل کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی اُن کو بعض نظارے ایسے دکھاتا ہے جن سے مزید ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا؟ وہ خد اتعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دلآزاری اور بد زبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اُٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے