خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 447 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 447

خطبات مسرور جلد نهم 447 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء امیر صاحب برکینا فاسو بیان کرتے ہیں کہ سے تینگا (Seytenga) کے رہائشی اور ڈوری ریجن کے ریجنل زعیم انصار الله الحاج بنتی Bunty) چند ماہ قبل شدید بیمار ہو گئے اور جب اُنہیں ہسپتال لایا گیا تو مقامی ڈاکٹر نے ان کے گھر والوں کو بلالیا اور کہا کہ اس مریض کا علاج بے سود ہے ، یہ اب چند لمحوں کا مہمان ہے ، اس لئے اُسے گھر لے جاؤ۔اس پر ان کو واگا ڈوگو (شہر کا نام ہے ) جو وہاں کا کیپیٹل (Capital) ہے وہاں لایا گیا۔یہاں کے سرکاری ہسپتال میں بھیجا گیا تو وہاں بھی ڈاکٹر نے علاج کرنے سے انکار کر دیا کہ مریض بس چند گھنٹوں کا مہمان ہے جس سے سب گھر والے مایوس ہو گئے۔اس پر امیر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اُن سے کہا کہ یہ بات ناممکن ہے۔ڈاکٹر صرف ظاہری کیفیت پر نظر رکھتے ہیں۔زندگی تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔آپ بھی خلیفہ وقت کو خط لکھیں اور اسی روز انہوں نے خط لکھا اور مجھے بھی یہاں بھجوایا۔اور پھر خود بھی سارے ان دعاؤں میں لگ گئے۔تو کہتے ہیں کہ اس خط کے لکھنے کے بعد اور دعاؤں میں شدت پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ صحت واپس آنا شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے الحاج بنتی صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہو گئے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے کام کر رہے ہیں۔سب میٹنگز میں شامل ہوتے ہیں اور انصار اللہ کا کام بڑی مستعدی سے کر رہے ہیں۔اس کے بالمقابل ایک اور گاؤں چلے (Challe) کے ایک رہائشی کا نام بھی الحاج پنتی ہی تھا۔وہ جماعت کا شدید مخالف تھا اور ہر وقت جماعت کے خلاف لوگوں کو اکساتارہتا تھا لیکن صحت کے لحاظ سے بہت اچھا تھا اور کوئی بیماری نہ تھی۔ایک روز گاؤں میں لوگ احمد یہ ریڈیو پر جاری تبلیغ سن رہے تھے کہ ان صاحب کا وہاں سے گزر ہوا۔بہت شدید غصے میں آکر اس نے جماعت کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا کہ یہ لوگ کافر ہیں ان کی تبلیغ نہ سنو۔لوگوں نے کہا کہ آپ ان سے راضی نہیں تو نہ سہی مگر گالیاں تو نہ دیں، ان کی بہتک کرنا چھوڑ دیں۔مگر اس نے کہا کہ وہ ایسا ہی کرتارہے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا۔تو اس رات مکمل صحت کی حالت میں وہ شخص سویا ہے تو اگلے دن اپنے بستر پر مردہ پایا گیا۔رات کو نا معلوم کس وقت اُس کو کسی قسم کی بیماری کا حملہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اُس کو وفات دے دی۔پورتونو وو (Porto Novo) ریجن بین کے معلم رائی زکریا صاحب بتاتے ہیں کہ حفیصو صاحب نامی احمدی کا بچہ گم ہو گیا۔اس پریشانی میں انہوں نے سارے علاقہ کی خاک چھان ماری۔ریڈیو پر کئی دفعہ اعلانات بھی کرواتے رہے مگر بچہ نہ ملا۔پریشانی اور بے بسی کی حالت میں اُن کا فون آیا کہ میرا نہیں خیال کہ بچہ ملے۔معلم زکریا صاحب کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ مایوسی گناہ ہے۔ہم تو ایسے امام کو ماننے والے ہیں جس کا دعویٰ ہے کہ دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اس نسخے کو آزما کر دیکھو اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔تم بھی دعا کرو میں بھی دعا کرتا ہوں، ہم سب مل کے دعا کرتے ہیں تو بچے کے والد حفیصو صاحب کہتے ہیں کہ میں سجدے میں پڑ گیا، معلم صاحب کی یہ بات سننے کے بعد اور واسطے دینے لگ گیا کہ اے اللہ ! اس علاقہ میں باقی تو کسی نے تیرے امام کو قبول نہیں کیا صرف میں ہی ہوں اکیلا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا ہے اور تیر امام ضرور سچا ہے۔میں تجھے اس