خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 385
خطبات مسرور جلد نهم 385 31 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء خطبہ جمعہ فرموده 05 اگست 2011ء بمطابق 05 ظهور 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: 28،27) ان آیات کا یہ ترجمہ ہے کہ ہر چیز جو اس پر ہے ( یعنی زمین پر ہے یا کائنات میں ہے) فانی ہے اور باقی رہنے والا صرف تیرے رب کا جاہ واکرام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ہر یک چیز فنا ہونے والی ہے اور ایک ذات تیرے رب کی رہ جائے گی“۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ”ہر ایک چیز کیلئے بجز اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہرادی“۔ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 231) چشمیر معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 165) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے علاوہ ہر چیز کے لئے موت ضروری ٹھہرا دی ہے۔پھر اپنے ایک شعری کلام میں جو آپ نے ، محمود کی آمین، کے نام سے منظوم فرمایا۔یہ نظم آپ نے اپنے سب سے بڑے بیٹے سید نا محمود مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمین پر لکھی تھی جو دعائیہ اشعار اور نصائح سے پر نظم ہے۔ان اشعار میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان دعاؤں اور نصائح میں دوسرے دو بیٹوں کو بھی شامل فرمایا بلکہ پوری جماعت ہی اس میں شامل ہے۔یہ لمبی نظم ہے۔اس میں ایک جگہ دنیا کے عارضی ہونے اور اس سے بے رغبتی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔”دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جُدا ہے پھر آگے ایک مصرعہ ہے کہ