خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 235
خطبات مسرور جلد نهم 235 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 2011ء بمطابق 13 ہجرت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب ”نزول المسیح میں فرماتے ہیں کہ ”خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔پس چونکہ میں اُس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اُسی نبی کریم خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاکر اور اُسی میں ہو کر اور اُسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔اِس لئے میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔“ ( نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 380-381) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں جس آیت کا حوالہ دے رہے ہیں وہ سورہ مجادلہ کی یہ آیت ہے کہ : كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَ أَنَا وَ رُسُلِى إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزُ (المجادلة:22) چند دن ہوئے مجھے پاکستان سے کسی نے لکھا، گو کہ میں لکھنے والے سے متفق نہیں ہوں کیونکہ جس طرح اس لکھنے والے نے تصویر کھینچی ہے ، میرے نزدیک اس بات کو عموم کا رنگ نہیں دیا جا سکتا۔لکھنے والا لکھتا ہے کہ اس بات کو بہت زیادہ جماعت کے لٹریچر اور اشاعت کے ذرائع میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی اللہ ہیں۔کیونکہ لوگ آپ کو نبی کہنے سے جھجکتے ہیں۔میرے نزدیک یہ افراد جماعت پر بد ظنی ہے۔اس کو عموم کا رنگ نہیں دیا جا سکتا۔ہو سکتا ہے کہ اس لکھنے والے کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والے حالات کی وجہ سے مداہنت کا مظاہرہ کرتے ہوں۔لیکن یہ وہ چند لوگ ہیں جن پر دنیا داری غالب آجاتی ہے۔وہ مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کو نہ کبھی دیکھا ہے ، نہ پڑھا ہے۔بلکہ میرے خطبات بھی نہیں سنتے کیونکہ میں تو یہ کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح بات سے بات نکلے اور بات سے بات نکالتے ہوئے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام واضح کروں۔