خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد نهم 229 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء اور پھر ایک روایت ہے۔زیاد بن ابی زیاد جو بنی مخزوم کے غلام تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم مرد یا عورت سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خادم سے دریافت فرماتے رہتے تھے کہ کیا تمہاری کوئی ضرورت ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ ایک روز اُس نے کہا کہ یارسول اللہ ! میری ایک حاجت ہے۔آپ نے دریافت فرمایا، تمہاری حاجت کیا ہے ؟ خادم نے عرض کی۔میری حاجت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے روز میری شفاعت فرمائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات کی طرف کس نے توجہ دلائی؟ خادم نے عرض کیا میرے رب نے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیوں نہیں، پس تم سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر5 صفحه 517 حدیث خادم النبى حديث نمبر 16173 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس شفاعت اگر چاہتے ہو تو پھر سجدوں کی کثرت کی بھی ضرورت ہے۔ایک آدھ نماز پڑھ لینے سے، پیروں کی قبروں پر سجدے کر لینے سے شفاعت نہیں ہو گی بلکہ سجدوں کی کثرت کرنے سے شفاعت ہو گی اور سجدے بھی وہ چاہئیں جو خالص ہو کر خد اتعالیٰ کے حضور کئے جائیں۔اللہ تعالیٰ کو واحد و یگانہ اور سب طاقتوں کا مالک سمجھتے ہوئے کئے جائیں۔اللہ تعالیٰ کو تمام حاجات کا پورا کرنے والا سمجھا جائے۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ آپ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! قیامت کے روز لوگوں میں سے وہ کون خوش قسمت ہے جس کی آپ سفارش فرمائیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو ہریرہ! مجھے یہی خیال تھا کہ تم سے پہلے یہ بات مجھ سے اور کوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ میں دیکھ چکا ہوں جو حرص تمہیں حدیث کے متعلق ہے۔قیامت کے روز میری شفاعت کے ذریعے لوگوں میں سے خوش قسمت وہ شخص ہو گا جس نے اپنے دل یا فرمایا اپنے نفس کے اخلاص سے یہ کہا۔اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔پس اللهُ لا إلهَ إِلا هُوَ ”جو اخلاص سے کہا گیا، دل سے کہا گیا، نفس کی کسی ملونی کے بغیر کہا گیا، وہی اصل چیز ہے ، اور یہی اصل ہے جو شفاعت کا حقدار ٹھہراتی ہے۔اور ایسے لوگوں کی شفاعت کرنے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار فرمایا۔ایک جگہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ آپ سے یہ اعلان کرواتا ہے کہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:32 ) کہ تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔یہ آیت جہاں عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے ایک کھلا اعلان ہے کہ تمہارے یہ دعوے کہ تم خدا کے پیارے ہو اور اُس کے بچے ہو ، خاص طور پر عیسائی جو کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے کے ماننے والے ہیں، اس لئے خدا کے پیارے ہو گئے یا وہ ہمارے لئے نجات کا باعث بن گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے (صحيح البخارى كتاب العلم باب الحرص على الحديث حديث: 99)