خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 195

195 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تحریف کرتے ہیں اور پھر نعوذ باللہ نام یہ کہ احمدیوں نے کیا ہے) غضب کے وقت یہ بھیڑیئے ہیں۔۔۔۔ان کی ناراضنگی یا خوشی صرف اپنے نفس امارہ کی خاطر ہوتی ہے اور ان کا ذکر اور تسبیح محض دکھاوے کیلئے ہوتا ہے۔اپنے آپ کو لوگوں کی گردنوں کا مالک سمجھتے ہیں۔(کیسی حقیقت بیان کی ہے۔اور آج کل تو پاکستان میں یہ بہت زیادہ اپنے آپ کو لوگوں کی گردنوں کا مالک سمجھنے لگ گئے ہیں) جس کو چاہیں فرشتہ قرار دے دیں اور جسے چاہیں شیطان کا بھائی۔ان میں حلم و بردباری کا نام ونشان نہیں بلکہ زبان درازی میں انہوں نے درندوں کو بھی مات دیدی ہے۔وہ تمہارے پاس بھیڑوں کے لباس میں آتے ہیں حالانکہ وہ انواع و اقسام کے بہتانوں سے حملہ کرنے والے خونخوار بھیڑئے ہیں۔ان کے ہاتھ جھوٹے فتوے لکھتے ہیں اور ایک دو درہم ان کے ایمان کو تباہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔وہ لوگوں کو قبول حق سے روکتے ہیں اور شیطان کی طرح وسوسے ڈالتے ہیں۔ان کا تکبر بہت بڑھ گیا ہے اور تدبر کم ہو گیا ہے۔کوئی مفید بات کرنے کی قدرت نہیں رکھتے بلکہ شکوک و شبہات کو ہوا دیتے ہیں۔جب خاموش ہوتے ہیں تو ان کی خاموشی فرائض کو ترک کرنے کیلئے ہوتی ہے اور جب کلام کرتے ہیں تو اس میں کوئی رعب اور تاثیر نہیں ہوتی۔شریعت کے مشکل مسائل کے حل سے ان کو کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی طریقت کی باریکیوں کی کوئی خبر ہے۔عیسی علیہ السلام کی موت کا عقیدہ بڑا واضح ہے لیکن انہیں اسلام کی فتح سے کوئی غرض نہیں ہے۔۔۔۔فرمایا۔۔۔خدا کی طرف سے ان کی قسمت میں صرف شور شرابا ہی ہے۔قرآن کو پڑھتے ہیں لیکن صرف زبان سے۔ان کے دلوں میں قرآن نے کبھی جھانکا ہی نہیں۔۔۔۔فرمایا۔۔۔ان میں کسل اور غفلت بہت بڑھ گیا ہے اور ذہانت و فر است کم ہوگئی ہے۔مشکل اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔تو انہیں جذبات نفس کی وجہ سے مدہوش اور نفس کا اسیر پائے گا۔۔۔۔فرمایا۔۔۔خدائے رحمن کے حقوق کو بھلائے بیٹھے ہیں۔اس حال میں کیسے ان سے کسی نصرت دین کی توقع کی جاسکتی ہے؟۔۔۔فرمایا۔۔۔تعصب نے انہیں درندہ صفت بنادیا ہے اور حق بات سننے سے روک دیا ہے۔انکا دین حرص وہوا پرستی، کھانا پینا اور مال بٹورنا ہے۔اسلام کی مصیبت زدہ حالت پر نہ غم کھاتے ہیں ، نہ ہی روتے ہیں۔(اگر روئیں گے بھی تو مگر مچھ کے آنسو ہیں) اپنے بادشاہوں کو تو دیکھ کر ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے جبکہ خدائے ذوالجلال والا کرام سے کوئی خوف نہیں۔نہ ہی انہیں ضلالت اور فتنوں کے پھیلنے اور آفات کے نازل ہونے سے کوئی خوف محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔ان میں سے ایک فریق جہاد کے نام پر جاہل لوگوں کو تلواروں سے گردنیں مارنے پر ابھار رہا ہے۔چنانچہ وہ ہر اجنبی اور راہ رو کا خون کرتے پھرتے ہیں اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔(ماخوذ از عربی عبارت الهدى و التبصرة لمن یری۔روحانی خزائن جلد 18۔صفحہ 314 تا333) تو یہ بعض حصے تھے اُن چند صفحات کے جو میں نے پیش کئے۔سو سال سے زائد عرصہ پہلے یہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی تھیں۔مسلمانوں کی حالت کا جو نقشہ آپ نے کھینچا، آج بھی ہم اُسی