خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 188

حصہ 188 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہر روز تنزل اور کمی میں ہیں اس لئے کہ انہوں نے آسمان کے پروردگار کو ناراض کیا اور جو خدمت اُن کے سپر د ہوئی تھی اس کا کوئی حق ادا نہیں کیا۔۔۔“۔فرمایا۔۔۔وہ زمین کی طرف جھک گئے ہیں اور پوری تقویٰ سے انہیں کہاں ملا ہے۔اس لئے ہر ایک سے جو اُن کی مخالفت کے لئے اُٹھ کھڑا ہو ، شکست کھاتے ہیں اور باوجود کثرتِ لشکروں اور دولت اور شوکت کے بھاگ نکلتے ہیں۔اور یہ سب اثر ہے اُس لعنت کا جو آسمان سے اُن پر برستی ہے۔اس لئے کہ انہوں نے نفس کی خواہشوں کو خدا پر مقدم کر لیا اور ناچیز دنیا کی مصلحتوں کو اللہ پر اختیار کر لیا اور دنیا کی فانی لہو ولعب اور لذتوں میں سخت حریص ہو گئے اور ساتھ اس کے خود بینی اور گھمنڈ اور خود نمائی کے ناپاک عیب میں اسیر ہیں۔دین میں سست اور ہار کھائے ہوئے اور گندی خواہشوں میں چست چالاک ہیں۔۔۔“۔فرماتے ہیں کہ ”۔۔۔اُنہوں نے خواہشوں سے اُنس پکڑ لیا اور اپنی رعیت اور دین کو فراموش کر دیا“۔(نہ عوام کا خیال ہے ، نہ دین کا خیال ہے ) اور پوری خبر گیری نہیں کرتے۔بیت المال کو باپ دادوں سے وراثت میں آیا ہو امال سمجھتے ہیں اور رعایا پر اسے خرچ نہیں کرتے جیسے کہ پر ہیز گاری کی شرط ہے۔اور گمان کرتے ہیں کہ ان سے پرسش نہ ہو گی اور خدا کی طرف لوٹنا نہیں ہو گا۔سو ان کی دولت کا وقت خواب پریشان کی طرح گزر جاتا ہے۔۔۔“۔فرمایا”۔۔۔اگر تم ان کے فعلوں پر اطلاع پاؤ تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور حیرت تم پر غالب آ جائے۔سو غور کرو کیا یہ لوگ دین کو پختہ کرتے اور اس کے مددگار ہیں۔کیا یہ لوگ گمراہوں کو راہ بتاتے اور اندھوں کا علاج کرتے ہیں۔“ الهدى والتبصرة لمن يرى روحانی خزائن جلد 18 صفحه 280 تا284) یہ تو ان بادشاہوں کا حال ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ افریقن ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو ناکام کرنے کے لئے یہ اپنی طرف سے کوشش کرتے ہیں۔گو اپنی دولت کا تو یہ شاید ہزارواں حصہ بھی خرچ نہیں کرتے۔معمولی سی رقم دے کر ( کیونکہ دولت ان کے پاس بے انتہا ہے ، تیل کی دولت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی مخالفت کے لئے اپنے مشنری بھیجے ہیں۔پہلے ان کو خیال نہیں آیا لیکن اب اس کام کے لئے بھیج رہے ہیں۔بہر حال پھر آگے آپ فرماتے ہیں کہ : وو انہیں شریعت کے احکام سے نسبت ہی کیا۔بلکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ اس کی قید سے نکل کر پوری بے قیدی سے زندگی بسر کریں۔اور خلفائے صادقین کی سی قوت عزیمت ان میں کہاں اور صالح پر ہیز گاروں کا سا دل کہاں جس کا شیوہ حق اور عدالت ہو۔بلکہ آج خلافت کے تخت ان صفات سے خالی ہیں۔۔۔“۔(لیکن کہتے ہیں کہ ہم میں خلافت قائم ہو گی۔اُس کے لئے کوششیں کی جاتی ہیں۔علماء کی طرف سے کبھی کسی کا نام پیش کیا جاتا ہے کبھی کسی کا۔فرمایا لیکن بہر حال ان کے دل ان صفات سے خالی ہیں اس لئے خلافت ان میں ہو نہیں سکتی۔) پھر فرماتے ہیں کہ ”۔۔۔دھیان نہیں کرتے کہ ملت کی ہو ا ٹھہر گئی ہے اور اس کے چراغ بجھ گئے ہیں اور اس کے رسول کی تکذیب ہو رہی ہے اور اس کے صحیح و غلط کہا جارہا ہے بلکہ ان میں سے بہتیرے خدا کی منع کی ہوئی چیزوں پر اڑ بیٹھے ہوئے ہیں۔اور سخت دلیری سے خواہشوں کو محرمات کے بازاروں میں لے جاتے ہیں۔۔۔“۔(یعنی کھلے عام