خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 184

184 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم نقشہ نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھینچا ہے بلکہ جو نقشہ مسلمان بادشاہوں کا اور حکمرانوں کا اور عوام کا اور علماء کا سو سال سے زائد عرصہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھینچا ہے آج بھی تمام مسلم ممالک آپ کے ان الفاظ کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔یہی حالات آج کل پیش آرہے ہیں۔اور جب ہم مزید نظر دوڑائیں تو صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے مسلم ممالک نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد جو نئی اسلامی مملکتیں وجود میں آئی ہیں، اُن کے سربراہوں اور رعایا اور نام نہاد علماء کا بھی یہی حال ہے۔جو اپنی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔اور پھر اس تمام خوفناک اور قابل شرم صورتِ حال کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہے ، حل بھی بیان فرمایا ہے کہ صحیح وقت جس نے آنا تھا وہ آچکا اور ہزاروں نشانات اور آسمانی تائیدات اُس کی آمد کی گواہی دے رہی ہیں۔اور اُس کو ماننے میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے میں اب مسلمانوں کی بقا ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔لیکن آپ کی بات کا مثبت جواب دینے کی بجائے آپ کے خلاف مخالفتوں کے طوفان ہی اُٹھے۔تاہم آپ کے دعویٰ کے بعد ایک اچھی صورت حال یہ بھی سامنے آئی کہ مخالفین احمدیت نے اسلام کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہوئے اسلام کی تبلیغ کی کوششیں بھی شروع کر دیں۔اُن کی ان کوششوں کی حقیقت کیا ہے اور کس حد تک اسلام کا درد ہے ؟ یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے۔اس تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا لیکن بہر حال بعض تنظیموں نے اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔لیکن کیونکہ برادر است الہی رہنمائی حاصل نہیں تھی اس لئے بہت سی بدعات یا اپنے اپنے خاص مکتبہ فکر جس کی طرف مختلف گروپ منسوب تھے ، ان کے نظریات کی زیادہ تقلید کی گئی اور بہت سارے نظریات اور بدعات راہ پاگئیں۔بنیادی اسلامی تعلیم کو بھلایا جاتا رہا۔حکم اور عدل تو خدا تعالیٰ نے ایک ہی کو بھیجنا تھا جس نے غلط اور صحیح اور حقیقی اور غیر حقیقی کے درمیان لکیر کھینچ کر واضح کرنا تھا۔اس محکم اور عدل کے بغیر تو غلط نظریات ہی راہ پانے تھے لیکن بہر حال ایک ہل جل ( ہلچل) مسلمانوں میں پیدا ہوئی اور ایک طبقے کو مذہب میں دلچسپی بھی پیدا ہوئی بلکہ بڑھی اور یہ دلچسپی اصل میں تو لوگوں کے اندر کی بے چینی کو دور کرنے کے لئے تھی اور یہ بھی اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی تقدیر کے تحت ہی ہو رہا تھا تا کہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کی تلاش کریں۔گو کہ بعض جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور ہو رہا ہے وہ تلاش میں کامیاب ہوتے ہیں اور بعض غلط ہاتھوں میں پڑنے کی وجہ سے اس بے چینی کو دور کرنے کی جستجو میں ہی دنیا سے چلے جاتے ہیں۔یہاں میرے پاس جب بیعت کرنے والوں کے واقعات آتے ہیں تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سعید روحیں کس قدر بے چین تھیں، حق کو پانے کے لئے اُن کی کیا حالت تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی کس طرح رہنمائی فرمائی۔اس رہنمائی کو بعض اتفاقات کہتے ہیں لیکن اصل میں یہ خدا تعالیٰ کے اس اعلان کی صداقت ہے کہ جس کو وہ چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔بہر حال ایسے بے شمار واقعات ہیں جن کو میں کسی وقت بیان کروں گا، جس طرح گذشتہ جمعہ میں صحابہ کے واقعات بیان کئے تھے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ وہ خدا جس طرح پہلے رہنمائی فرماتا تھا آج بھی رہنمائی فرما رہا ہے۔