خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 135

135 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم استعمال کریں جو ہو میو پیتھک دوائی ہے۔ایک دن ایک، دوسرے دن دوسری۔اس کے بعد ایک ہفتے کے وقفے سے ایک دوائی۔پھر ایک ہفتے کے وقفے بعد دوسری دوائی۔یعنی کہ دو ہفتے بعد ایک دوائی کی باری آئے گی۔وہاں اور لوگوں کو بھی کھلائیں۔اگر وہاں میسر نہیں ہے تو Humanity first کو جو اور انتظام کر رہی ہے یہ دوائی بھی بھجوانے کی کوشش کرنی چاہئے۔بہر حال اس وقت جاپان کے علاقے میں زلزلے اور سمندری طوفان نے تباہی پھیلائی ہوئی ہے اور پھر ریڈی ایشن کا بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس کے بدنتائج دیر تک چلتے ہیں۔زلزلہ آیا، سونامی آیا۔یہ تو ایک وقتی طور پر آیا تھا، ختم ہو گیا لیکن اگر ریڈی ایشن خدا نخواستہ زیادہ پھیل گئی تو پھر نسلوں تک اس کے اثرات چلتے ہیں۔بچے بھی بعض دفعہ اپانچ پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم فرمائے۔وہ قو میں جو سمجھتی ہیں کہ ہم محفوظ ہیں لیکن زمانے کے امام کی پیشگوئی کے مطابق وہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔اور اگر اب بھی انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کی تو جو یہ آفات ہیں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ان کو بھی اللہ تعالیٰ ، خدا تعالیٰ کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔اس سال میں، اس علاقے میں یعنی اس جاپان اور فار ایسٹ (Far East) وغیرہ کے علاقے میں اور آسٹریلیا میں تین مختلف ممالک جو ہیں وہ آفات سے متاثر ہوئے ہیں۔نیوزی لینڈ میں بھی ایک شہر کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔کہتے ہیں وہاں نیوزی لینڈ میں 1931ء میں بہت بڑاز لزلہ آیا تھا جس سے دو شہر تباہ ہو گئے تھے اور اس سال بھی جو زلزلہ آیا ہے اُس کی شدت گو 1931ء والے زلزلے سے کم تھی لیکن اس میں بھی بہت تباہی ہوئی ہے۔ستر ہزار لوگوں کو اپنے گھروں کی بربادی کی وجہ سے شہر چھوڑنا پڑا۔تقریباً پچھتر فیصد تو شہر ہی تباہ ہو گیا۔پھر آسٹریلیا میں بارشوں اور سمندری طوفان نے تباہی مچائی ہے۔آسٹریلیا میں بھی ستر شہر اور قصبے تباہ ہو گئے ہیں۔پورا کوئینزلینڈ (Queensland) ہی تقریباً متاثر ہوا ہے۔اور اس کوئینز لینڈ کا جو رقبہ ہے وہ لمبائی چوڑائی میں اتنا بڑا ہے کہ جاپان سے چار گنا زیادہ ہے۔پس یہ زعم بھی ختم ہو جاتا ہے کہ ہمارے پاس بہت رقبہ ہے اور ہم یہاں سے وہاں چلے جائیں گے، ادھر سے اُدھر چلے جائیں گے۔پھر ان کی معیشت کو آسٹریلیا میں بڑا نقصان پہنچا ہے۔اس صوبے میں کوئلے کی بڑی کا نہیں ہیں جن میں سے پچاسی فیصد کو نقصان پہنچا ہے اور کہتے ہیں کہ دو اعشاریہ تین بلین ڈالر کا نقصان کوئلے کی کانوں کو ہوا ہے، اور کل معیشت کو نقصان تیس بلین ڈالر کا ہوا ہے۔پھر اس کے علاوہ وہاں کے علاقے وکٹوریہ میں طوفان آیا اور محکمہ موسمیات کے مطابق وہاں کے وکٹوریہ کی تاریخ میں یہ بدترین طوفان تھا۔تو دنیا کی تو یہ حالت ہے اور پھر یہ زعم کہ ہم بڑے ترقی یافتہ ہیں۔اور گزشتہ سالوں میں امریکہ میں بھی طوفان آتے رہے تو کتنوں کو انہوں نے بچالیا۔اُن کی بھی بستیاں تباہ ہو گئیں۔تو ان ملکوں کے طوفانوں سے باقی ملک یہ نہ سمجھیں کہ شاید ہمارے لئے بچت ہے اور یہ علاقے ایسے ہیں جہاں طوفان آتے ہیں یاز لزلے آتے ہیں یا آفات آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمام دنیا کو، دنیا کی قوموں کو ایک ہاتھ پر جمع کرے اور اپنی پہچان کروائے۔اس کے لئے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے۔آپ فرماتے ہیں: