خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 109
خطبات مسرور جلد نهم 109 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء کے لئے یہ بھی بڑا عبرت کا مقام ہے۔قرآنِ کریم میں ان کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تو عقل کے ناخن لینے کی پہلے ہی ہدایت کر دی تھی کہ ہوش سے کام لینا، اس قسم کی حرکتیں نہ کرنا کہ پہلی تاریخ تم پر بھی دہرائی جائے۔لیکن افسوس کہ مسلمان باوجود اس تنبیہ کے اس عبر تناک تنبیہ کو بھول گئے۔اللہ تعالیٰ ہر بڑے تکبر کرنے والے اور اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرنے والے اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں سرشار کو فرماتا ہے کہ تمہارے یہ تکبر کچھ کام نہیں آئیں گے۔فرمایا وَ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً۔کہ وہ بڑے طاقتور لوگ تھے جو تمہارے سے پہلے تھے۔ایک تو وہ تمہاری آج کی حکومتوں سے زیادہ طاقتور تھے۔دوسرے اُن نبیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور تھے۔د نیادی حیثیت سے نبیوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ کی لاٹھی چلی، جب اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو فنا کرنے کا ایک فیصلہ کیا تو سب فنا ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس سنت کا ذکر فرما کر ہر زمانے کے طاقتور اور فرعون اور اُن کے پر وردوں کو بتادیا کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے مقابلے میں تمہاری طاقت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔دوسرے اللہ والوں کے لئے اللہ تعالی کی حمایت کا اعلان بظاہر اُن کی کمزور حالت کے باوجود انہیں طاقتور بنا دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طاقت اُن کے پیچھے ہوتی ہے۔اور طاقتور سمجھے جانے والے، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ قصہ پارینہ بن جاتے ہیں، ختم ہو جاتے ہیں۔کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں تھے اور کہاں گئے ؟ پس اللہ والوں کے مخالفین کو ہوش کرنی چاہئے اور اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کا مقابلہ اللہ تعالیٰ سے مقابلہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ فرمایا وَ مَا كَانَ اللهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمواتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ (فاطر : 45) کہ آسمان اور زمین میں کوئی نہیں جو اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکے۔پس ایک بیوقوف قوم جو ہے وہ یہی سمجھتی ہے یا بعض علاقوں کے ، بعض ملکوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم طاقتور ہیں۔ہم ان تھوڑے سے اور معمولی حیثیت کے لوگوں کو زیر کر لیں گے۔دنیاوی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بیوقوفی نہیں، بڑی صحیح سوچ ہے کیونکہ طاقتور اور چالاک غالب آ جاتے ہیں۔اور جب ہم دنیا کے حالات دیکھتے ہیں، آج کل بھی دیکھ لیں ، طاقتور اور چالاک ہی ہیں جنہوں نے دنیا پر حکومت کی ہوئی ہے، حکومت کر رہے ہیں اور بظاہر مومن کہلانے والے اُن کے قبضے میں ہیں لیکن یہاں مقابلہ دنیا والوں کا دنیا والوں کے ساتھ نہیں ہے۔جب جماعت احمدیہ کا سوال آتا ہے ، جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا سوال آتا ہے تو دنیا والوں کا مقابلہ اللہ والوں کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ایک الہی جماعت کے ساتھ ہو جاتا ہے۔پس یہاں دنیاوی اصول نہیں چلے گا بلکہ یہاں وہ جیتے گا جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کھڑا ہو کر یہ اعلان فرمائے گا وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعْجِزَہ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ جسے کوئی عاجز کر سکے۔پس آج اس زمانے میں ہمارے لئے یہ خوشخبری ہے لیکن ساتھ ہی ایک ذمہ داری کی طرف بھی توجہ ہے کہ اُس اللہ والے سے حقیقی رنگ میں جڑ کر اللہ تعالیٰ سے ایک خاص تعلق پیدا کریں۔اُن لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ کی سنت خاص نشان دکھاتی ہے۔اپنی عبادتیں، اپنی دعائیں، اپنے عمل اس