خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 54

54 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بڑھ جاتا ہے تو اس وقت تھوڑی سی نیکی کی بھی بڑی قدر ہوتی ہے۔وہ لوگ جن کو منافق کہا گیا ہے اصل میں وہ بڑے بڑے صحابہ کے مقابل پر منافق تھے“۔(ملفوظات جلد 5 صفحہ 310-311 مطبوعہ ربوہ) لیکن ہمیں یادر کھنا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ہمارے معیار عام مسلمان سے اونچے ہونے چاہئیں۔ہمارے لئے اس زمانے کے کمزور ایمان والے یا بعض باتوں میں کمزوریاں دکھانے والے اسوہ نہیں ہیں بلکہ وہ صحابہ اسوہ ہیں جو اعلیٰ معیار پر پہنچے ہوئے تھے۔جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت کی اور اپنی رضا کی خوشخبریاں دی ہیں۔پس ہم نے وہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی علیکم کو پسند ہیں۔ہماری امانت کے معیار بہت اعلیٰ ہونے چاہئیں۔قومی امانتیں ہوں، جماعتی امانتیں ہوں یا ذاتی امانتیں ہوں ہم نے ہر ایک کا حق ادا کرنا ہے۔ہم کسی سرکاری دفتر میں کام کر رہے ہیں تو قطع نظر اس کے کہ ساتھ کا عملہ کیا عمل دکھا رہا ہے ہمارا اپنا امانت کا معیار ہونا چاہئے جو دوسروں سے ممتاز کرنے والا ہو۔پرائیویٹ کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں تو وہاں ایک احمدی کا نمونہ ہو جو دوسروں سے ممتاز کر رہا ہو۔آج ہم بڑے فخر سے غیروں کو بتاتے ہیں کہ احمدی کا امانت کا معیار دوسروں سے بہتر ہے۔لیکن صرف یہ بہتر ہونا کوئی فخر کی بات نہیں ہے بلکہ فخر کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ ترین معیار ہو۔تیسری دنیا کے ملکوں میں جہاں ترقی کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ بعض جگہ تو منفی رفتار ہے ، وہاں یہی وجہ ہے کہ ہر شعبے میں اور ہر جگہ پر اور ہر سطح پر امانت میں خیانت کی جارہی ہے مثلاً پاکستان کو یہ تو بڑا فخر ہے کہ ہم مسلمان ملک ہیں لیکن اب جو نئے اعداد و شمار آئے ہیں، کرپشن کرنے والے ممالک میں اس کا نمبر پہلے سے بڑھ گیا ہے۔اسی طرح بعض اور مسلمان ممالک ہیں یا بعض ممالک کے مسلمان ہیں جن کے ہاتھ میں اختیارات ہیں لیکن خیانت میں بڑھے ہوئے ہیں اور بڑھتے چلے جارہے ہیں۔تو کیا صرف مسلمان ہونے سے خیر امت بن جائیں گے ؟ کیا صرف اسلامی قوانین نافذ کرنے کا اعلان کرنے سے خیر امت بن جائیں گے ؟ ان لوگوں میں ایک دو برائیوں کا سوال نہیں ہے بلکہ تمام برائیاں ہیں لیکن پھر بھی مومن ہیں۔اور جو حقیقی مومن ہیں وہ ان کی نظر میں کا فر ہیں۔آج کل کے ایسے ہی نام نہاد مومنوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ آنحضرت کے زمانے کے منافقین ان نام نہاد مومنوں سے بہتر تھے۔پس امانت کے معیار قائم کرنے کے لئے اور اس امانت کی حفاظت کرنے کے لئے جس کے امین آنحضرت صلی الم تھے ایک احمدی ہی ہے جو صحیح حق ادا کر سکتا ہے اور حق ادا کرنا چاہئے تا کہ خیر امت میں شمار ہوں۔اس بگڑے ہوئے معاشرے میں یہ حق اپنے نمونے قائم کر کے اور ماحول کو نصیحت کر کے ادا ہو گا۔آنحضرت جس امانت کو لے کر آئے تھے اور جو دنیا کو خدا تعالیٰ کا توحید کا پیغام پہنچانا تھا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادا ئیگی تھی تو یہ امانت ہے جو ایک احمدی کے ذمہ لگائی گئی ہے۔پس آج احمد کی اس امانت کا بھی سب سے بڑھ کر امین ہونا چاہئے۔اور اس مقصد کے لئے سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح سے اس امانت کے حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کر کے اس امانت کا حق ادا ہو گا۔اپنے بچوں کی تربیت کر کے اس امانت کا حق ادا ہو گا تا کہ ان حقوق کی ادائیگی کی روح انگلی نسلوں میں بھی منتقل ہوتی چلی جائے۔