خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 571
571 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بہر حال میں اُس کے کچھ حصے، ایک دو باتیں بیان کروں گا۔جب اس مضمون کو انسان پڑھ رہا ہو تو اس موقع کی ایک جذباتی حالت ہے اور پھر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا بیان ہو تو عجیب کیفیت ہو جاتی ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا ایک مضمون کا کچھ حصہ آگے جاکے پیش کروں گا۔مختصر اپہلے ان کی سیرت کے بارے میں مختلف لوگوں نے جو مجھے لکھا ہے وہ میں بیان کرتا ہوں۔بلکہ میری والدہ بتایا کرتی تھیں کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمہاری خالہ کو اُن کی والدہ کی وفات کے بعد حضرت ام ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپر د کر دیا تھا اور اس کا ذکر حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی فرمایا ہے۔اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اُس وقت میری والدہ کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ ان کا خیال رکھنا۔میری والدہ ان سے تقریباً 19 سال بڑی تھیں اور بچوں والا تعلق تھا۔جب میری والدہ کی شادی ہوئی ہے تو اس وقت ہماری یہ خالہ سات آٹھ سال کی یا زیادہ سے زیادہ نو سال کی ہوں گی۔جب میری والدہ کی رخصتی ہونے لگی تو خالہ نے ضد شروع کر دی کہ میں باجی جان کے بغیر نہیں رہ سکتی میں نے بھی ساتھ جانا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے پھر سمجھایا تو خیر سمجھ گئیں۔خاموش تو ہو گئیں اور بڑی افسردہ رہنے لگیں لیکن وہی صبر اور حوصلہ جو ہمیشہ بچپن سے دکھاتی آئی تھیں اُس کا ہی مظاہرہ کیا۔بہر حال پھر بعد میں حضرت اماں جان ام المؤمنین کے پاس رہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ربوہ میں اپنے بچوں کے جو گھر بنا کر دیئے ہوئے ہیں ان میں خالہ کا اور ہماری والدہ کا گھر ساتھ ساتھ ہیں۔دیوار سانجھی ہے۔جب تک گھر وں کے نقشے نہیں بدلے تھے اور مزید تعمیر نہیں ہوئی تھی، بعد میں کچھ مزید تعمیر ہوتی رہی تو بیچ میں دروازے بھی تھے ، ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا اور بڑی بے تکلفی ہوتی تھی۔میں نے خالہ کو ہمیشہ ہنتے اور خوش دلی سے ملتے اور اپنے گھر میں ہر بڑے چھوٹے کا استقبال کرتے دیکھا ہے۔مہمان نوازی آپ میں بہت زیادہ تھی۔امیر ہو یا غریب ہو، بڑا ہے یا چھوٹا ہے، اپنے گھر آئے ہوئے کی خاطر کرتی تھیں۔ان کے میاں، ہمارے خالو مکرم پیر معین الدین صاحب جو پیراکبر علی صاحب کے بیٹے تھے ، ان کے خاندان کی اکثریت غیر از جماعت تھی۔خالہ نے اُن کے ساتھ بھی بڑا تعلق نبھایا۔مکرم پیر معین الدین صاحب کی ایک بھتیجی نے لکھا کہ ہمارے ددھیال والے غیر از جماعت ہیں لیکن اُن کے ساتھ بھی ہماری چچی کا سلوک بہت محبت اور پیار اور احترام کا تھا اور سب ان کی بہت قدر کرتے اور محبت سے ان کا ذکر کرتے ہیں۔یہ پیار کا سلوک اللہ کرے کہ قریب لانے کا باعث بھی بنے، ان کی دعائیں بھی قریب لانے کا باعث بنیں اور ان لوگوں کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچاننے اور ماننے کی توفیق ملے۔اپنے بھانجے بھانجیوں، بھتیجے بھتیجیوں سے بڑی بے تکلفی اور پیار کا تعلق تھا اور وہ سب ان سے راز داری بھی کر لیتے تھے اور اسی بے تکلفی کی وجہ سے اُن کی نصیحت کو سنتے بھی تھے اور برا نہیں مناتے تھے۔ڈانٹ بھی اُن کی پیار اور ہنسی کے ساتھ ہوتی تھی۔اگر نصیحت کرنی ہوتی تو ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت اماں جان ( ام المومنین) اور حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعات سنا کر تنبیہ اور نصیحت فرمایا کرتی تھیں۔