خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 502
502 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07اکتوبر 2011ء بھی رکھنا شروع کر دیں۔اسی طرح دنیا میں بسنے والے پاکستانی احمدی بھی اپنے پاکستانی احمدی بھائیوں کے لئے بہت زیادہ دعائیں کریں۔اسی طرح دنیا بھر کے احمدی بھی جو پاکستانی نہیں ہیں اپنے پاکستانی احمدی بھائیوں کے لئے بہت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ان ظلم کرنے والوں کی جلد صفیں لپیٹ دے تاکہ ملک میں جلد امن و سکون قائم ہو سکے ، تا کہ خدا تعالیٰ کے فرستادہ کے متعلق جھوٹ اور مغلظات کے جو طومار باندھے جارہے ہیں اُن کا خاتمہ ہو اور ملک بچ جائے ورنہ ملک کے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں۔یقینا پاکستانی احمدیوں کا یہ حق ہے کہ اُن کے لئے غیر پاکستانی احمدی بھی دعائیں کریں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام آپ تک پہنچایا ہے۔یقینا جب اضطراری کیفیت میں دعائیں کی جائیں تو خدا تعالیٰ سنتا ہے اور آج جب حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کے خلاف دریدہ دہنی کی انتہا ہو رہی ہے، اس سے زیادہ اور کونسی تکلیف ہے جو ہم میں اضطرار پیدا کرے گی۔پس آج ہر احمدی کو مضطر بن کر دعا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مضطر کی دعاخد اتعالیٰ کبھی رد نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : الصلوة ”خدا تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خداوہ خدا وو ہے جو بیقراروں کی دعا سنتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے، امن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل: 63) ایام الصلح، روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحہ 259-260) پھر فرماتے ہیں: ”یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے۔جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پر وا نہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اُس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاه۔(النمل: 63 )۔“ 66 ( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 455 مطبوعہ ربوہ) پس آج ہر احمدی کو خاص طور پر اضطراری حالت میں یہ دعائیں کرنی چاہئیں اور پھر پاکستان کے احمدیوں کو تو پاکستان کے حالات کے حوالے سے خاص طور پر بہت زیادہ کرنی چاہئیں۔احمدیوں پر ظلم کی انتہا سے نجات کے لئے بہت زیادہ اور اضطراب سے دعاؤں کی ضرورت ہے اور جیسا کہ میں نے کہا پاکستان کے رہنے والے بعض احمدی تو ، تمام نہیں، اس اضطراب کا اظہار بعض جگہ کر بھی رہے ہیں۔اس کا مزید اظہار ہونا چاہئے۔مزید اس کا اظہار کریں اور ہر احمدی خالص ہو کر ظالموں اور ظلموں سے نجات کے لئے دعا کرے۔یہی ہمارے ہتھیار ہیں اور اسی کی طرف بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی ہے۔مجھے یاد ہے خلافت رابعہ میں جب میں ربوہ میں تھا تو خلیفہ رابع نے مجھے ناظر اعلیٰ مقرر کر دیا تھا۔پاکستان کے حالات کے متعلق اُس وقت دعا کی، حالانکہ اُس وقت حالات آجکل کے حالات کے عشر عشیر بھی نہیں تھے ، کوئی نسبت بھی نہیں تھی تو خواب میں مجھے یہ آواز آئی کہ اگر سو فیصد پاکستانی احمدی خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جائیں تو ان حالات کا خاتمہ چند راتوں کی دعاؤں سے ہو سکتا ہے۔