خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 480
480 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم زمانہ ہو گا۔لیکن پھر ایک وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا، اُمت پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر پڑے گی تو ظلم وستم کے دور کو اللہ تعالیٰ ختم فرمائے گا اور خلافت علی منہاج نبوت کا قیام ہو گا جس نے دائمی رہنا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 285 حدیث : 18596 مسند النعمان بن بشیر مطبوعہ عالم الكتب بيروت 1998ء) اُمت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لئے جو خیر امت بنایا ہے اس کی تجدید ہو گی۔آج مختلف مسلمان علماء اور تنظیموں کی طرف سے وقتافوقتاً جو یہ معاملہ اٹھایا جاتا ہے کہ امت میں خلافت کا قیام ہو یہ اس لئے ہے کہ یہ سب جانتے ہیں کہ اُمت کی بقا خلافت کے بغیر نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔لیکن ساتھ ہی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرستادے کو ماننے کو تیار نہیں جس کے ذریعہ سے خلافت علی منہاج نبوت کا قیام ہوا۔پس قرآن اور حدیث جو ہیں اس بات کی تائید فرمارہے ہیں کہ اُمت کی بقا اور اُمت میں سے ظلموں کا خاتمہ اور اندھیروں کا خاتمہ اُس نظام کو چاہتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی معہود کے ذریعے شروع فرمایا۔آج ہر مسلمان ملک کی اندرونی حالت اس بات کا پکار پکار کر اعلان کر رہی ہے کہ سوچو اور غور کرو کہ تمہارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ اور اللہ اور اُس کا رسول جس بات کی طرف بلا رہے ہیں اُس کی طرف آؤ کہ یہی حل ہے تمہارے تمام مسائل کا، تمہارے ملکوں کے اندر کی بے چینیوں کا، تمہارے ملکوں کی دولت پر طاقتور قوموں کی لچائی ہوئی نظروں کا۔صرف ایک حل ہے کہ اس اللہ تعالیٰ کے آئے ہوئے اس مسیح و مہدی کو مان لو۔پس یہ پیغام ہے جو دنیا میں ہم نے پہنچانا ہے۔اور یہی پیغام جرمنی کے لئے بھی ہے، یورپ کے لئے بھی ہے، ایشیا کے لئے بھی ہے، عرب ملکوں کے لئے بھی ہے۔خاص طور پر مسلمان ملکوں کو یہ پیغام ہے کہ جس طرف خدا اور اُس کا رسول تمہیں بلا رہے ہیں، اُس طرف آؤ۔خدا تعالیٰ کے رحم نے جو جوش مارا ہے اور اُس جوش کے تحت اپنے پیارے کو جو مبعوث فرمایا ہے تو اس مسیح و مہدی کی پہچان کرو اور اُس کے مدد گار بن جاؤ اسی میں تمہاری بقا ہے۔احمدی باوجود اس کے کہ مسیح موعود کا پیغام پہنچانے سے اکثر مسلمان ممالک میں ظلموں کا نشانہ بنتے ہیں لیکن وہ اُمت کی ہمدردی کے جذبے کے تحت یہ پیغام پہنچاتے چلے جارہے ہیں۔دراصل تو یہ پیغام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے تا کہ اُمت کی اکثریت اُن لوگوں میں شامل ہو جو آخرین کا زمانہ پا کر امت کے مبارک لوگوں میں شامل ہوئے۔پس جب یہ ہر احمدی کا فرض بھی ہے کہ اس پیغام کو پھیلائے تو پھر جیسا کہ میں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ ہمیں اپنے جائزے بھی لینے ہوں گے کہ ہم جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ہم میں سے کتنے ہیں جو چوبیس گھنٹے میں ایک مرتبہ یا ہفتے میں ایک مرتبہ ، یا مہینے میں ایک مرتبہ اس بات پر گہر ا غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب سمجھتے ہیں تو پھر منسوب ہوتے ہوئے ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ ان پر کبھی غور کیا؟ ہماری عبادتوں کے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ ہمارے اخلاق کے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں کہ ہمارے اندر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہے تو اُس کی مدد کرنے کے لئے ہم کیا کر دار ادا کر رہے ہیں ؟ پس یہ سوچنے کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ کے رحم نے تو جوش مارا ہے اور