خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 475

خطبات مسرور جلد نهم 475 37 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 2011ء بمطابق 23 تبوک 1390 ہجری شمسی بمقام گروس گیر اؤ۔جرمنی تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ ہفتہ لجنہ اماءاللہ جر منی اور خدام الاحمدیہ جرمنی کے اجتماعات منعقد ہوئے اور ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دکھانے کا باعث ہوئے۔مجھے جو خدام اور خواتین کے خطوط آرہے ہیں، اُن سے لگتا ہے کہ اُن کو جو بھی باتیں میں نے کیں، کہیں ، ان باتوں نے اُن کے اندر کی جو سعید فطرت تھی اس کو جھنجوڑا ہے، اور یہی ایک احمدی کی خوبی ہے اور ہونی چاہئے کہ جب بھی انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم ذکر کے تحت نصیحت کی جائے ، یاد دہانی کروائی جائے تو وہ اُس پر کان دھرتے ہیں۔اور ایک اچھی تعداد افراد جماعت کی نصیحت پر ، یاد دہانی پر ، مؤمنانہ رویہ دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی اس تعریف کے تحت آتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمَّا وَ عُميَانًا (الفرقان:74) یعنی اور وہ لوگ جب انہیں ان کے رب کی آیات یاد دلائی جائیں تو ان سے وہ بہروں اور اندھوں کا معاملہ نہیں کرتے۔یہ نہیں کہتے کہ ہم نے تو سنا ہی نہیں کہ کیا کہا ہے اور وہاں کیا ہو رہا تھا، کس قسم کا ماحول تھا۔بلکہ اگر کمزور ہیں تو ندامت اور احساس شرمندگی ہوتا ہے۔اگر پہلے سے اپنی کوشش نیکیوں میں بڑھنے کی کر رہے ہیں تو ان نصائح اور باتوں کو سن کر ان پر عمل کرنے کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کرتے ہیں۔اس اجتماع میں دونوں طرف تقریباً نصف جماعت کی حاضری تو تھی۔اگر حاضر ہونے والوں کی اکثریت اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے والی بن جائے تو جو انقلاب دنیا کی اصلاح کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لانا چاہتے تھے اور انقلاب اُن کی جماعت کو لانا چاہتے اُس میں یہ لوگ مدد گار بننے کا کردار ادا کرنے والے ہوں گے۔اکثریت میں نے اس لئے کہا ہے کہ یقینا ایسے بھی بیچ میں بیٹھے ہوتے ہیں جو زیادہ اثر نہیں لیتے، لیکن جنہوں نے اثر لیا ہے ، اپنے جائزے لئے ہیں، مجھے خطوط لکھے ہیں وہ بھی یادرکھیں کہ اگر آپ ان باتوں کی بنگالی نہیں کرتے رہیں گے ، اگر ذیلی تنظیمیں میری طرف سے کہی گئی باتوں کی ہر وقت بنگالی نہیں کرواتی رہیں گی تو پھر کچھ عرصہ بعد یہ باتیں، یہ جوش، یہ شرمندگی کے جو اظہار ہیں یہ ماند پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔