خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 346
خطبات مسرور جلد نهم 346 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء ”اے سونے والو! بیدار ہو جاؤ۔اے غافلو! اُٹھ بیٹھو کہ ایک انقلاب عظیم کا وقت آگیا۔یہ رونے کا وقت ہے نہ سونے کا۔اور تضرع کا وقت ہے نہ ٹھٹھے اور ہنسی اور تکفیر بازی کا۔دعا کرو کہ خداوند کریم تمہیں آنکھیں بخشے تا تم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو اور نیز اس نور کو بھی جو رحمتِ الہیہ نے اُس ظلمت کے مٹانے کے لئے تیار کیا ہے۔پچھلی راتوں کو اُٹھو اور خدا تعالیٰ سے رو رو کر ہدایت چاہو اور ناحق حقانی سلسلہ کے مٹانے کے لئے بد دعائیں مت کرو اور نہ منصوبے سوچو۔خدا تعالیٰ تمہاری غفلت اور بھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بیوقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا۔اور اپنے بندہ کا مددگار ہو گا اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔کیا کوئی تم میں سے اپنے اس پودہ کو کاٹ سکتا ہے جس کے پھل لانے کی اس کو توقع ہے۔پھر وہ جو دا ناو بینا اور ارحم الراحمین ہے وہ کیوں اپنے اس پودہ کو کاٹے جس کے پھلوں کے مبارک دنوں کی وہ انتظار کر رہا ہے“۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو یہ پیغام سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 54،53) اب چند جنازے ہیں جو میں جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا اُن کے بارے میں ذرا بتانا چاہتا ہوں۔پہلا تو ہے مکرم ڈاکٹر سید فاروق احمد صاحب کا جو سید محی الدین احمد صاحب رانچی انڈیا کے بیٹے تھے۔برمنگھم میں رہتے تھے۔پرسوں 6 جولائی کو اُن کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ 1958ء میں ڈاکٹر کی ڈگری لینے کے بعد جو انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی انڈیا سے حاصل کی ، 1964ء میں یو۔کے آئے اور رائل کالج آف سر جن میں شمولیت اختیار کی۔ویسٹرن انگلینڈ میں GP کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔نہایت سادہ، ہمد رد، مخلص اور باوفا انسان تھے۔پُر جوش داعی الی اللہ بھی تھے ان کو بہت سے خاندانوں کو احمدیت میں شامل کرنے کا موقع ملا۔آپ نے سیکرٹری تبلیغ، زعیم انصار اللہ اور صدر جماعت اور ریجنل امیر کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔مالی قربانی میں بھی ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اپنی امارت کے دوران ویسٹ مڈلینڈ میں مسجد دارالبرکات برمنگھم کے علاوہ اور بھی مساجد تعمیر کروانے کی توفیق پائی۔آپ موصی تھے۔ان کے چھوٹے بھائی سید لئیق احمد گزشتہ سال اٹھائیس مئی کو جو واقعہ ہوا ہے ، اُس میں شہید ہو گئے تھے۔تمام خاندان ہی بڑا مخلصین کا خاندان ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔دوسر اجنازہ ہے مکرمہ صدیقہ قدسیہ صاحبہ کا جو رانا حفاظت احمد صاحب سیالکوٹ کی اہلیہ تھیں۔ان کے ایک بیٹے رانا صباحت احمد مربی سلسلہ ہیں جو آج کل نظارت اصلاح وارشاد مرکزیہ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔21 مارچ کو 57 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔سکول ٹیچر تھیں۔گاؤں والوں سے اچھا تعلق تھا۔گاؤں میں صرف ایک ہی احمدی گھرانہ تھا جس کی وجہ سے کئی ابتلا کے مواقع آئے لیکن آپ نے ہمیشہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کا گہرا تعلق تھا۔نیک سیرت، نمازوں کی پابند ، دعوت الی اللہ میں بھر پور جذبہ رکھنے والی خاتون تھیں۔چندوں اور پر دے کی بڑی پابندی اور باقاعدگی تھی۔موصیہ بھی تھیں۔