خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 313
313 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر ہے۔کہ اے نبی ! بھوکوں اور محتاجوں کو کھانا کھلا۔پھر صبح حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ کھانے کی کیا تجویز ہو رہی ہے۔تو عرض کیا گیا کہ ایک ضلع کے آدمیوں کو بلا کر دوسرے کو بلاتے ہیں۔میرے سامنے حضرت صاحب نے یہ فرمایا کہ دروازے کھول دو، جو آئے اُس کو کھانے دو“۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں امیر الدین صاحب احمدی گجراتی رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 192،191 غیر مطبوعہ ) حکیم عبد الصمد صاحب بھی اپنی روایت بیان کرتے ہیں اُس میں بھی اس کا کچھ حصہ آجائے گا جو عبد الغنی صاحب دہلی کے بیٹے تھے۔کہتے ہیں کہ میں 1907ء میں قادیان میں حاضر ہوا۔عصر کے بعد کھانا کھانے کے لئے جب ہم لنگر خانہ میں جانے لگے تو کچھ لوگ دروازے میں کھڑے تھے۔میں بھی وہیں کھڑا ہو گیا۔دروازہ کھلنے پر لوگوں نے اندر جانا چاہا۔ایک لڑکے نے اُن کو دھکے دے کر دروازہ بند کر دیا۔وہ لوگ بہت شر مند ہ اور نادم ہو کر واپس چلے گئے۔میں پھر تھوڑی دیر کے بعد واپس گیا تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔صبح کی نماز کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت صاحب تشریف لائے ہیں۔میں مسجد مبارک کے پرانے زینہ کے پاس کھڑا ہو گیا۔اوپر سے حضرت صاحب تشریف لے آئے۔بہت سا مجمع تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ کل کوئی قصہ ہوا ہے یا فرمایا کوئی جھگڑا ہوا ہے۔مجھے صحیح الفاظ یاد نہیں۔حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا کہ مجھ کو معلوم ہوا تھا کہ منتظمین کی غلطی تھی، بعض معزز آدمی اندر جانا چاہتے تھے ، ایک لڑکے نے دھکا دے کر لنگر کا دروازہ بند کر دیا۔وہ معزز لوگ تھے وہ ناراض ہو کر اپنی اپنی جگہ پر چلے گئے۔پھر ان کو کھانا بھیجا گیا۔بعض نے کھا لیا مگر بعض نے نہیں کھایا۔اس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ جن لوگوں کی غلطی سے یہ حرکت ہوئی ہے ان کو شرم کرنی چاہئے اور وہ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں جن کی چیخ و پکار کی آواز آسمان پر سنی گئی۔اس کے بعد فرمایا کہ آج رات اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایسے الفاظ سے مخاطب کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ايُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر۔کہ اے نبی! تو بھوکوں اور بیقراروں کو کھانا کھلا۔حضرت صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ یہ الفاظ تکمیل کے ہیں۔میں اُس وقت اس فقرے کے معنی نہیں سمجھا تھا۔( یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ رتبہ بخشا ہے اور یہ خطاب فرمایا ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔یايُّهَا النَّبِيُّ۔ایک پورا ہونے والی بات ہے اور پوراہو رہی ہے۔اب مجھے سمجھ آتا ہے کہ اس سے مراد یہ تھی کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ حضرت صاحب کا درجہ گھٹانے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کامل نبی تھے۔یہ جلسہ سالانہ کا واقعہ ہے۔لنگر خانہ اس وقت اُس مکان میں تھا جہاں آج کل حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ رہتی ہیں۔اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے بالکل مقابل میں اس کا دروازہ کھلتا ہے۔(ماخوذ از روایات حضرت حکیم عبد الصمد صاحب رجسٹر روایات جلد 12 صفحہ 19 تا 21 غیر مطبوعہ ) ایک دفعہ میں ایک پورا خطبہ اس بات پر بھی دے چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی ہیں اور جن لوگوں کو کسی بھی قسم کی غلط فہمی ہے یا بعض لوگ بزدلی یا مداہنت میں غیروں کے سامنے ، بات کرتے ہوئے، بحث کرتے ہوئے، اظہار کر جاتے ہیں اُن کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی کہہ کر پکارا ہے