خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 301

301 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کرتا ہے کہ اُس پر چلے جس پر اللہ اور اُس کا رسول ہمیں چلانا چاہتا ہے۔جب ہم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر وہ ٹارگٹ ہو ، وہ اسوہ ہو جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے۔جس کو آپ سے فیض پانے والے صحابہ نے ہمارے سامنے رکھ کر منعم علیہ لوگوں کا نمونہ دکھایا۔جس کو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے قول و فعل سے ہمارے سامنے پیش فرما کر ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف جانے کے راستے دکھائے۔جن کے ذریعے سے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کر کے اعلیٰ روحانی مدارج کو حاصل کیا۔میں نے گھریلو زندگی کا ذکر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے صحابہ کو اپنے اہل سے اپنے گھر والوں سے حسن سلوک کا کس طرح ارشاد فرماتے تھے ؟۔ایک مرتبہ ایک صحابی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش ہو کر یہ بیان کیا کہ میری بیوی اپنے میکے میں اتنا عرصہ رہ کر آئی ہے اور اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ اُسے کبھی میکے نہیں جانے دینا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس بات کو سُن کر بڑا رنج پہنچا، بڑی تکلیف ہوئی۔آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے کہا کہ ہماری مجلس سے چلے جاؤ کہ یہ باتیں ہماری مجلس کو گندہ کر رہی ہیں۔اور آپ نے کافی سخت الفاظ اُنہیں فرمائے۔پھر انہوں نے معافیاں مانگیں۔ایک دوسرے صحابی جو اپنی بیوی سے زیادہ حسن سلوک نہیں کرتے تھے وہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے ، وہ وہاں سے فوراً اُٹھ کر بازار گئے۔بازار جا کر کچھ چیزیں بیوی کے لئے خریدیں اور گھر لے جا کر اُس کے سامنے رکھیں کہ یہ تمہارے لئے تحفہ ہیں اور بڑے پیار سے باتیں کیں۔بیوی پریشان کہ آج میرے خاوند کو کیا ہو گیا ہے۔یہ انقلاب کیسا ہوا ہے ؟ اس سے پوچھا کہ آج تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بیوی سے بد سلوکی کا بیان ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سخت تکلیف اور ناراضگی دیکھ کر آیا ہوں۔اللہ میرے گزشتہ گناہ معاف کرے۔جو تم سے میں سلوک کرتا رہا تم بھی مجھے معاف کرو اور آئندہ حسن سلوک ہی کروں گا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 3 صفحہ 128-129 روایات محمد اکبر صاحب تو یہ تبدیلی ہے جو ہدایت کے راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔گھریلو زندگی سے شروع ہوتی ہے۔معاشرے میں پھیلتی ہے اور پھر دنیا میں پھیلتی ہے اور اسی بات کا آج ایک احمدی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد بیعت باندھا ہے۔اور اسی سے پھر اللہ تعالیٰ کے قرب کے رشتے حاصل ہوتے ہیں۔تو ہدایت صرف کسی مامور کو مان لینا نہیں ہے یا نظام سے وابستہ ہو جانا ہی نہیں ہے بلکہ اپنی زندگیوں کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا اور اُس پر قائم ہو ناہدایت کی اصل ہے، بنیاد ہے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کے لئے نہیں ہے۔یہ دعا صرف اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے نہیں ہے بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے بھی ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے یہ دعا تمہاری زندگی کے ہر شعبے کے لئے ہے۔(ماخوذ از کشی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 58-59)