خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 257
خطبات مسرور جلد نهم 257 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء یہ ایک بڑی غور طلب بات ہے۔دراصل مامور من اللہ لوگوں سے مدد نہیں مانگتا بلکہ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللہ کہہ کر وہ اس نصرت الہیہ کا استقبال کرنا چاہتا ہے اور ایک فرطِ شوق سے بے قراروں کی طرح اس کی تلاش میں ہو تا ہے۔نادان اور کو تاہ اندیش لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں سے مدد مانگتا ہے بلکہ اس طرح پر اس شان میں وہ کسی دل کے لئے جو اس نصرت کا موجب ہو تا ہے ایک برکت اور رحمت کا موجب ہو تا ہے۔پس مامور من اللہ کی طلب امداد کا اصل ستر اور راز یہی ہے جو قیامت تک اسی طرح رہے گا۔اشاعت دین میں مامور من اللہ دوسروں سے امداد چاہتے ہیں مگر کیوں؟ اپنے ادائے فرض کے لئے تاکہ دلوں میں خدا تعالیٰ کی عظمت کو قائم کریں۔ورنہ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ قریب یہ کفر پہنچ جاتی ہے اگر غیر اللہ کو متولی قرار دیں۔اور ان نفوس قدسیہ سے ایسا امکان محال مطلق ہے۔( ملفوظات جلد 9 صفحہ 12-14 مطبوعہ لندن 1984ء) ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 31-32 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں : ” دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے۔جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی، اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اسے کسی بد معاشی میں میسر آسکتا ہے، بیچ ہے۔بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الہی ہے۔دعا کے ذریعہ ہی انسان خدا تعالیٰ کے نزدیک ہو جاتا اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔جب مومن کی دعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کو بھی اُس پر رحم آجاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کا متولی ہو جاتا ہے۔اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الہی توئی کے بغیر انسانی زندگی قطعا تلخ ہو جاتی ہے۔دیکھ لیجئے جب انسان حد بلوغت کو پہنچتا ہے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگتا ہے تو نامرادیوں نا کامیابیوں اور قسما قسم کے مصائب کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔وہ اُن سے بچنے کے لئے طرح طرح کی کوششیں کرتا ہے۔دولت کے ذریعہ ، اپنے تعلق حکام کے ذریعہ ، قسم قسم کے حیلہ وفریب کے ذریعہ“۔(جب دنیا میں مصائب شروع ہو جائیں تو وہ بچنے کے لئے کیا کرتا ہے۔اگر اُس کے پاس دولت ہے ، پیسہ ہے ، تو اس سے بچنے کے لئے اُس کو استعمال کرتا ہے۔اگر اُس کے بڑے افسران سے تعلقات ہیں تو ان تعلقات کو استعمال کرتا ہے یا مختلف قسم کے حیلے اور فریب، دھو کے کے ذریعہ سے، کسی نہ کسی طریقے سے) وہ بچاؤ کے راہ نکالتا ہے، لیکن مشکل۔ہے کہ وہ اُس میں کامیاب ہو۔بعض وقت اُس کی تلخ کامیوں کا انجام خود کشی ہو جاتی ہے۔اب اگر ان دنیاداروں کے عموم و ہموم اور تکالیف کا مقابلہ اہل اللہ یا انبیاء کے مصائب کے ساتھ کیا جاوے تو انبیاء علیہم السلام کے مصائب کے مقابل اول الذکر جماعت کے مصائب بالکل بیچ ہیں۔لیکن یہ مصائب و شدائد اُس پاک گروہ کو رنجیده یا محزون نہیں کر سکتے“۔( انبیاء اور اولیاء کو جو مشکلات آتی ہیں وہ انہیں رنجیدہ نہیں کرتیں، افسردہ نہیں کر تیں) ان کی خوشحالی اور سرور میں فرق نہیں آتا کیونکہ وہ اپنی دعاؤں کے ذریعے خدا تعالیٰ کی توتی میں پھر رہے ہیں۔دیکھو اگر ایک شخص کا ایک حاکم سے تعلق ہو اور مثلاً اس حاکم نے اُسے اطمینان بھی دیا ہو کہ وہ اپنے مصائب