خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد نهم 136 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء ”خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راست بازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الہی باغ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں“۔(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5۔صفحہ 251) پس اسلام کی سچائی اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے دنیا میں قائم ہونی ہے اور آپ کے ساتھ جڑنے سے ہی دنیا میں قائم ہوتی ہے۔غیر قوموں سے مقابلہ کر کے اسلام کی برتری جب ثابت کرنی ہے تو اس جری اللہ کے ساتھ مجڑنے سے ہی ہو سکتی ہے۔کوئی اور تنظیم ، کوئی اور جماعت اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتی۔اُمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل پر غور کرنا چاہئے کہ کس طرح آندھی اور بارش دیکھ کر آپ بے چین ہو جایا کرتے تھے۔پس یہ دیکھیں کہ کیا ہم اس اُسوہ پر حقیقی طور پر عمل پیرا ہیں یا کوشش کرتے ہیں ؟ اگر نہیں تو بڑے فکر کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بڑا بے نیاز ہے۔اُس کا کسی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔خدا صرف اُس کا ہے جو حقیقی رنگ میں حق بندگی ادا کرنے والا ہے۔پاکستان میں جو گزشتہ سال سیلاب آیا جو ملک کی تاریخ کا بدترین سیلاب تھا، جس نے سر حد سے لے کر سندھ تک تمام صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور تجزیہ کرنے والے یہ تجزیہ کرتے ہیں کہ یہ انڈو نیشیا کے سونامی بھی زیادہ تباہ کن تھا۔ابھی تک وہاں لوگ شہروں میں کیمپوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔نہ ہی اُن کی آباد کاری کی طرف حکومت کو توجہ ہے اور نہ ہی اُس مُلاں کو جو ان کا ہمدرد بنتا ہے ، جنہوں نے ہر وقت احمدیوں کے خلاف ان کو اکسایا ہوا ہے۔ملک میں مکمل طور پر افرا تفری ہے۔پھر بھی عوام کو سمجھ نہیں آرہی کہ اُن کے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔اور زمانے کے امام کا انکار کئے چلے جارہے ہیں۔گزشتہ سیلاب جو آیا تھا اُس میں مولوی عوام کو یہ تسلی دلا دیتا تھا اور بحث ٹی وی پر چلتی جارہی تھی کہ یہ کوئی عذاب نہیں تھا بلکہ ابتلا تھا، اور ابتلا اللہ والوں کو آتا ہے۔اور پھر خود ہی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ عذاب تو اُس صورت میں ہوتا ہے جب کوئی نبی آتا ہے اور نبی کا دعویٰ موجود ہو تو چونکہ نبی کوئی نہیں ہے اس لئے یہ عذاب نہیں کہلا سکتا۔اور جو دعویٰ ہے اُس کی طرف دیکھنے اور سننے کو تیار نہیں۔اللہ تعالیٰ اس قوم پر بھی رحم کرے۔چند سال پہلے ایک بدترین زلزلہ آیا تھا جس نے تباہی مچادی تھی پھر بھی ان کو عقل نہیں آئی کیونکہ سوچتے نہیں ہیں کہ ان آفات کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اُس کے فرستادے نے کی ہے جس کے یہ انکاری ہیں۔اور جیسا کہ میں نے اقتباس میں پڑھا ہے کہ آپ نے فرمایا، کچھ حوادث اور آفتیں میرے بعد ظہور میں آئیں گی۔پس کچھ تو آنکھیں کھولو۔اے بصیرت اور بصارت کا دعویٰ کرنے والو! کچھ تو عبرت حاصل کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے واضح فرمایا ہے کہ دوسرے ملکوں میں آفات کو دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ تم محفوظ ہو، بلکہ واضح فرمایا کہ میری پیشگوئیاں تمام دنیا کے لئے ہیں، نہ اس سے پنجاب مستثنی ہے۔اُس وقت