خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 88
خطبات مسرور جلد نهم 88 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء کے تین بیٹے تھے۔آپ تینوں کے لئے دعائیں بھی کرتے تھے لیکن پیشگوئی صرف ایک کے متعلق ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک فی الواقع ایسا ثابت ہوا ہے کہ اُس نے ایک عالم میں تغیر پیدا کر دیا ہے“۔(رسالہ ”خلیفہ قادیان“ طبع اول صفحہ 8-7- از ارجن سنگھ ایڈیٹر رنگین امر تسر۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 288-287 مطبوعہ ربوہ) پسر موعود سے متعلق وعدہ الہی تھا کہ وہ اولوالعزم ہو گا “ اور یہ کہ ”وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“۔چنانچہ ہندوستان کے نامور صحافی خواجہ حسن نظامی دہلوی (1878-1955) اپنی قلمی تصویر کھینچتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں اُن کی عملی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔انہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغلئی جواں مردی کو ثابت کر دیا۔اور یہ بھی کہ مغل ذات کار فرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے۔سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل و فہم میں بھی قوی ہیں اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں، یعنی دماغی اور قلمی جنگ کے ماہر ہیں“۔( اخبار ” عادل‘ دہلی۔24 اپریل 1933 ء بحوالہ خالد نومبر 1955 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 288 مطبوعہ ربوہ) پھر پسر موعود کے متعلق ایک اہم خبر یہ دی گئی تھی کہ وہ اسیر وں کی رستگاری کا موجب ہو گا“۔یہ پیشگوئی جس حیرت انگیز رنگ میں پوری ہوئی اُس نے انسانی عقل کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے اور تحریک آزادی کشمیر اس پر شاہد ناطق ہے کیونکہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کا سہرا آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سر ہے۔یہ مشہور کمیٹی حضور کی تحریک اور ہند و پاکستان کے بڑے بڑے مسلم زعماء مثلاً سر ذوالفقار علی خان ،علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال، خواجہ حسن نظامی دہلوی، سید حبیب مدیر اخبار سیاست وغیرہ کے مشوروں سے 25 جولائی 1931ء کو شملہ میں قائم ہوئی۔اور اس کی صدارت حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو سونپی گئی تھی اور آپ کی کامیاب قیادت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانانِ کشمیر جو مدتوں سے انسانیت کے ادنیٰ حقوق سے بھی محروم ہو کر غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ، ایک نہایت قلیل عرصے میں آزادی کی فضا میں سانس لینے لگے۔اُن کے سیاسی اور معاشی حقوق تسلیم کئے گئے۔ریاست میں پہلی دفعہ اسمبلی قائم ہوئی اور تقریر و تحریر کی آزادی کے ساتھ انہیں اس میں مناسب نمائندگی ملی، جس پر مسلم پریس نے حضرت مصلح موعود کے شاندار کارناموں کا اقرار کرتے اور آپ کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ : جس زمانہ میں کشمیر کی حالت نازک تھی اور اُس زمانہ میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجو د مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا، انہوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔اُس وقت اگر اختلاف عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو تحریک بالکل ناکام رہتی اور اُمتِ مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا“۔(سرگزشت صفحه 293 از عبدالمجید سالک اخبار ”سیاست“ 18 مئی 1933 ء۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 289 مطبوعہ ربوہ) عبد المجید سالک صاحب تحریک آزادی کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : دو شیخ محمد عبد الله ( شیر کشمیر) اور دوسرے کارکنانِ کشمیر مرزا محمود احمد صاحب اور اُن کے بعض کار پردازوں کے ساتھ۔۔۔اعلانیہ روابط رکھتے تھے۔اور ان روابط کی بنا محض یہ تھی کہ مرزا صاحب کثیر الوسائل