خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 3

خطبات مسرور جلد نهم 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء خرج اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور اُس کی رضا چاہتے ہوئے کیا جائے تو خدا تعالیٰ ضرور اس کا بدلہ دیتا ہے ، جس کے بارہ میں دوسری جگہ قرآنِ کریم میں بھی بیان ہوا ہے کہ سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ خدا دے سکتا ہے۔یہاں یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ بڑی رقموں کو اور بڑی قربانیوں کو قبول کیا جائے گا بلکہ اصل قربانی کی روح ہے جسے خدا تعالیٰ قبول کرتا ہے۔بلکہ ہر عمل کی نیت ہے جسے خدا تعالیٰ قبول کرتا ہے۔بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ بڑی قربانی کے مقابلے میں بظاہر چھوٹی سی قربانی زیادہ رتبہ پاتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ ایک درہم، ایک لاکھ درہم کے مقابلے میں آج سبقت لے گیا۔صحابہ نے عرض کی کہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص کے پاس دو در ہم تھے۔اس نے ایک درہم کی قربانی کر دی۔اور ایک دوسرے شخص کے پاس بے شمار دولت اور جائیداد تھی اس نے اس میں سے ایک لاکھ درہم کی قربانی کی۔(سنن النسائى كتاب الزكاة باب جهد المقل حديث نمبر (2527 جو اس کی دولت کے مقابلے میں بہت کم تھی، گو کہ بہت بڑی رقم ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا معیار جذبہ اور نسبت کا ہے، مقدار کا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اس آیت میں غریبوں کی تسلی فرما دی کہ جس طرح زرخیز زمین پر تھوڑی بارش باغ کو پھلوں سے بھر دیتی ہے اسی طرح اپنی حیثیت کے مطابق نیک نیتی سے کی گئی تھوڑی سی قربانی بھی نیک عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ پا کر بڑی قربانی کرنے والوں کے برابر لا کھڑا کرتی ہے۔بلکہ بعض دفعہ درجہ میں بڑھا بھی دیتی ہے۔جیسا کہ اس ایک مثال سے ثابت ہے جو میں نے پیش کی۔پھر اللہ تعالیٰ اسی آیت میں فرماتا ہے وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقرہ۔266 ) کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔یہ کہہ کر یہ واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔وہ تمہارے جذبے کو جانتا ہے۔وہ اس روح کو جانتا ہے جس سے تم قربانی کرتے ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں جب بدلے ملتے ہیں تو دلوں کے اور نیتوں کے عمل کے مطابق ملتے ہیں، نیتوں کے مطابق ملتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمہاری مالی حیثیت جانتا ہے۔تم نے جو قربانی کی اگر اس حیثیت سے کی تو جو بھی بدلہ ملے گا اس کے مطابق ملے گا۔اس لئے قربانیوں کی قبولیت بھی اس نیت کے مطابق اور عمل کے مطابق درجہ پاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی جب آپ مالی تحریک فرماتے تو غریب بھی اور امیر بھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق مالی قربانی کرتے تھے۔آپ کے ماننے والوں کی اکثریت بھی غرباء کی تھی اور ان کی قربانیاں بھی رقم کے لحاظ سے بہت معمولی ہوا کرتی تھیں لیکن یہ جو طل معمولی بارش بھی ہے ، ایسی فائدہ مند ہوئی کہ اُن قربانیوں کو اتنے پھل لگے جو آج تک اُن بزرگوں کی نسلیں کھا رہی ہیں۔پس یہ اُن نسلوں کی بھی ذمہ داری