خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 80
80 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم وزیر اعظم تخت انگلستان گلیڈسٹون کے نام بھی ایک پرچہ اشتہار اور خط روانہ کیا گیا۔ایسا ہی شہزادہ بسمارک کے نام اور دوسرے نامی امراء کے نام مختلف ملکوں میں اشتہارات و خطوط روانہ کئے گئے جن سے ایک صندوق پر ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ کام بجز قوت ایمانی کے انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔یہ بات خودستائی کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت نمائی کے طور پر ہے تاحق کے طالبوں پر کوئی بات مشتبہ نہ رہے“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 156۔حاشیہ ) بہر حال اسلام کی تمام ادیان پر برتری کا کام تو آپ کرتے چلے گئے۔اور خاص طور پر عیسائیت کے امڈتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لئے اس کے آگے ایک بند باندھ دیا۔اس دوران آپ کے دل میں دعاؤں کی طرف توجہ دینے کے لئے خاص طور پر چلہ کاٹنے کی تحریک پیدا ہوئی۔تو اس کے لئے آپ نے قادیان سے باہر جا کر چلہ کاٹنے کا ارادہ کیا۔تو اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام بتایا کہ آپ کی عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہو گی۔چنانچہ آپ نے 22 جنوری 1886ء کو ہوشیار پور کا سفر اختیار کیا اور چلہ کشی کی جس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ترقی اور بہت سی بشارات آپ کو دیں۔چنانچہ جب چلہ ختم ہوا ' تو حضور علیہ السلام نے اپنے قلم سے 20 فروری 1886ء کو ایک اشتہار ”ر سالہ سراج منیر بر نشانہائے رب قدیر“ کے نام سے تحریر فرمایا، جو اخبار ریاض ہند امر تسر یکم مارچ 1886ء میں بطورِ ضمیمہ شائع ہوا۔اس میں آپ نے لکھا کہ: ان ہر سہ قسم کی پیشگوئیوں میں سے جو انشاء اللہ رسالے میں یہ بسط تمام درج ہوں گی“ (یعنی تفصیل سے بعد میں رسالہ میں درج ہوں گی ) ” پہلی پیشگوئی جو خود اس احقر سے متعلق ہے۔آج 20 فروری 1886ء میں جو مطابق پندرہ جمادی الاول ہے برعایت ایجاز و اختصار کلمات الہامیہ نمونہ کے طور پر لکھی جاتی ہے“ ( کہ مختصر طور پر میں نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں اور مفصل رسالہ میں درج ہو گی، انشاء اللہ تعالیٰ“۔فرماتے ہیں کہ "پہلی پیشگوئی بالہام اللہ تعالیٰ و اعلامہ عزو جل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے ( جلشانہ و عزاسمہ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے یہ پایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تاوہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا '۔اس بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ کے بعد حسب ذیل وضاحت فرمائی جو آپ کی ہدایت پر یہاں درج کی جارہی ہے آپ نے فرمایا کہ: گو یا چالیس دن پورے نہیں اغلباً اس دوران یہ اشتہار دیا ہے بہر حال یہ حوالہ تاریخ احمدیت کے مطابق دیا گیا ہے۔“