خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 633
خطبات مسرور جلد نهم 633 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء ہمارے ایک مربی سلسلہ کلیم احمد طاہر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے گیارہ سالوں میں آپ کو ہمیشہ کام میں ہی مصروف پایا۔بہت ہی خاموش خدمت گزار تھے اور ہر کام بہت محنت اور ذمہ داری سے کرتے تھے۔حیرت ہوتی تھی کہ اس عمر میں بھی ماشاء اللہ اتنا کام کرتے ہیں۔پھر دفتر ٹائم کے بعد شام کو عربک بورڈ کے اجلاسات میں شامل ہوتے۔آپ نے روحانی خزائن کے کام کے دوران ہر کتاب کا ایک ایک پروف خود لفظاً لفظاً پڑھا ہے۔غرضیکہ بہت علمی آدمی تھے اور بڑی محنت کرنے والے واقف زندگی تھے۔اپنے پرانے مبلغین کو بتایا کرتے تھے کہ صدر انجمن احمد یہ کا میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب بہت سادگی تھی اور کفایت شعاری کی وجہ سے بہت سی سہولتیں جو غیر ضروری سمجھی جاتی تھیں وہ نہیں ہوتی تھیں اور چھت کی طرف اشارہ کر کے کہتے تھے کہ اب تو ہر جگہ بجلی کے پنکھے چل رہے ہیں، یہاں جو یہ ایک پائپ لگا ہوا ہے پرانے دفتر میں اس پر ایک پنکھا ہو تا تھا جس کے ساتھ رشی ہوتی تھی۔جب ہوا کی ضرورت ہوتی تو اُس رشتی کو ہلا لیا کرتے تھے ، کوئی بجلی نہیں تھی کوئی کچھ سہولت نہیں تھی۔انہوں نے بتایا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقبوضہ کشمیر کے کسی علاقے میں اُن کو ایک پیغام پہنچانے کے لئے بھیجا۔راولپنڈی پہنچے تو دیکھا کہ کوئی سواری نہیں تھی، اگر کسی سواری کا انتظام کرتے تو دیر ہو جاتی اور خلیفہ المسیح کے حکم کی تعمیل کو اول وقت میں کرنے کی غرض سے آپ راولپنڈی سے پیدل ہی روانہ ہو گئے اور واپسی بھی پیدل کی اور حضور کا پیغام متعلقہ جگہ بخوبی پہنچادیا۔آپ نے ایک بچی بھی پالی ہوئی تھی جس کا مربی کے ساتھ بیاہ کیا اور اس کو بچوں کی طرح رکھا اور ہمیشہ بعد میں بھی اُس کا حال پوچھتے رہتے ، اظہار کرتے رہتے ، تحفے تحائف بھیجتے تھے۔گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک تھا۔بچے کہتے ہیں کبھی اونچی آواز میں ہم نے اُن کو بولتے یا ڈانٹتے نہیں سنا۔بچوں کی عزت نفس کا بہت خیال کرتے تھے۔بہت اعلیٰ انداز میں تربیت کی۔زندگی کے ہر عمل میں سادگی کا پہلو نمایاں تھا۔خود نمائی سخت ناپسند تھی۔ہر عمل میں صبر کی اعلیٰ مثال تھے۔کبھی اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کرتے تھے چاہے بیماری ہو یا کوئی اور پریشانی ہو۔اس قدر صبر تھا کہ آپ کی والدہ جو مقبوضہ کشمیر میں تھیں اُن کی وفات کی خبر جب بذریعہ خط ملی تو بڑے صبر سے اس صدمے کو برداشت کیا اور کئی دن کسی سے ذکر بھی نہیں کیا۔مہمان نوازی بہت زیادہ تھی۔جلسہ سالانہ پر کشمیر سے مہمان آیا کرتے تھے ، تو سارا گھر اُن کو دے کر خود اپنے بچوں سمیت ایک سٹور میں چلے جایا کرتے تھے۔اور وقف کے عہد کو نبھانے کی کوشش میں ہر وقت کوشاں رہتے تھے۔آخری وقت تک اس بارے میں متفکر رہے۔آخری چند سالوں میں کئی دفعہ اپنے بچوں کے پاس بیرونِ ملک تشریف لے گئے۔ان کے بچوں میں تقریباً سارے بیٹے ان کے باہر ہی ہیں۔بڑے بیٹے ان کے احمد بینی صاحب ہیں جو Humanity first کے چیئر مین بھی ہیں۔جب بچوں کے پاس آتے تھے تو عزیزوں نے اور بچوں نے اصرار کیا کہ یہیں رہ جائیں تو فرماتے تھے کہ میں نے زندگی وقف کی ہے کچھ تھوڑا سا وقت وقف نہیں کیا۔آپ کے پاؤں کی بہت تکلیف تھی ہر وقت سو جن رہتی تھی جیسا کہ میں نے بتایا۔اس کے باوجود با قاعدہ دفتر جاتے تھے