خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد نهم 57 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء جھوٹ اور امانت میں خیانت ، اور معاہدوں کا پاس نہ کرنا، اُن کو آنر (Honour) نہ کرنا، یہی چیز ہے جس نے ملکوں کے امن بر باد کر دیئے ہیں۔اکثر مسلمان ملکوں کے اندر حکومتوں اور سیاستدانوں اور عوام کے درمیان جو جنگ کی صورت پیدا ہوئی ہوئی ہے وہ اسی نفاق کا نتیجہ ہے جس کی نشاندہی آنحضرت صلیم نے فرمائی ہے۔(مسلمان) ملکوں میں جو نفاق پیدا ہوا ہے اس سے فائدہ اٹھا کر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بیہودہ گوئیاں کرنے اور بدنامی کا موقع مل رہا ہے۔اسرائیل کے ایک اخبار میں ایک یہودی نے ایک کالم لکھا کہ اسلام کی تعلیم تو امن پسند ہے ہی نہیں اور ان مسلمانوں کے جو عمل ہیں اس سے یہ واضح ہے کہ اسلام کی تعلیم اس کے خلاف ہے۔لکھتا ہے کہ اگر امن کی تعلیم ہے تو یا یہودیت میں ہے یا عیسائیت میں ہے اور اگر مسلمانوں میں کہیں امن کی کوئی بات ہوتی نظر آتی ہے تو وہ ایک بہت تھوڑی اقلیت ہے جو امن کی بات کرتے ہیں۔تو یہ کتنا بڑا المیہ ہے۔وہ لوگ جن کی تعلیم میں واضح طور پر سختی کی تعلیم لکھی گئی ہے مسلمانوں کے عمل کی وجہ سے اسلام کی تعلیم پر اعتراض کر رہے ہیں اور انگلی اٹھا رہے ہیں۔ہم احمدی اس بات پر تو خوش نہیں ہو سکتے کہ ایک محدود اقلیت سے احمدیوں کی طرف اشارہ ہے یا ایک گروپ مسلمانوں کی طرف بھی ہے تو ہم اس بات پر خوش ہو جائیں کہ چلو ایک اقلیت گروپ جو ہے وہ بدنام نہیں ہے اور امن کی بات کر رہا ہے۔ہماری خوشی تو تب ہو گی جب مسلمانوں کی اکثریت کے متعلق یہ کہا جائے کہ یہ اسلام کی تعلیم کی وجہ سے محبت، پیار اور امن کا پیغام دینے والے ہیں۔اسلام کی تعلیم پر یہ گھناؤنا الزام ہے جو ان لوگوں نے لگایا ہے اور لگا رہے ہیں اور لگاتے چلے جارہے ہیں اور مسلمانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ہمارے لئے تو یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔ہماری خوشی جیسا کہ میں نے کہا، ایک احمدی کی خوشی تو اس وقت ہو گی جب دنیا یہ کہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی نیلم کی تعلیم امن، پیار اور محبت کی تعلیم ہے۔اور صرف یہی تعلیم ہے جو اس قدر خوبصورت تعلیم ہے کہ جس کے بغیر دنیا میں امن قائم ہی نہیں ہو سکتا۔پس آج ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کو بھی عقل دے اور وہ حقیقی رنگ میں خیر امت بنے کا حق ادا کرنے والے بنیں اور ہم بھی حقیقی رنگ میں اپنا فرض ادا کرنے والے بن سکیں۔گزشتہ خطبے میں میں نے ایک حوالہ پیش کیا تھا۔اُس کی وضاحت بھی میں کرنا چاہتا ہوں۔وہ ابو لہب کا حوالہ تھا جو آنحضرت صلی اللظلم سے توہین کا سلوک کرتا تھا کہ اس کی وجہ سے اس کو بھیڑیوں نے چیر پھاڑ دیا۔اس میں ایک غلطی تھی جس کی اصلاح آج کرنا چاہتا ہوں۔عموماً تو میں قرآن اور حدیث ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے خود بھی چیک کر لیتا ہوں یا چیک کروالیتا ہوں۔لیکن ہمارے لٹریچر میں یہ مضمون ہمارے علماء میں سے ایک نے لکھا تھا تو اس میں سے میں نے لے لیا۔خیال تھا کہ صحیح حوالہ ہو گا لیکن بہر حال اس میں غلطی ہے۔لیکن یہ غلطی بھی ایسی ہے جو اس لحاظ سے بہتر ثابت ہو رہی ہے کہ اس کا تعلق ابو لہب سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے عتیبہ کی ہلاکت سے ہے (جو خود بھی رسول اللہ صلی الی یکم کی توہین کیا کرتا تھا)۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ روح المعانی میں ایک